سماع الموتیٰ اور حیات انبیاء یعنی مردوں کا سننا اور انبیاء کی زندگی

جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے، استغاثہ دراصل وسیلے ہی کی ایک صورت ہے۔

  اگر انبیاء اور اولیاء کو پکارا جائے تو اس کا مفہوم صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے دعا کریں۔

 لہٰذا حقیقی کرنے والا، مدد پہنچانے والااور قادر مطلق صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے۔

اب ضروری ہے کہ وسیلے کے تصور کو قدرے تفصیل سے بیان کیا جائے۔

  اس مفہوم کو سمجھنے کے لیے ہمیں اہلِ سنت کے دو اہم عقائد سے واقف ہونا چاہیے:

1-سماعِ موتیٰ یعنی مردوں کا سننا۔

2-حیاتُ الانبیاء یعنی قبور میں انبیاء کی زندگی۔ 

قرآن کہتا ہے: 

وَلَا تَقُوْلُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللہِ اَمْوَاتٌ ۚ بَلْ اَحْيَاءٌ وَلَٰكِن لَّا تَشْعُرُوْنَ

ترجمہ: اور اللہ تعالیٰ کی راہ کے شہیدوں کو مردہ مت کہو وہ زندہ ہیں، لیکن تم نہیں سمجھتے۔ (محمد جوناگڑھی بقرہ:154)

سلفی آیت کے آخری دو الفاظ پر شک قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یعنی:لَّا تَشْعُرُوْنَ۔

 لہٰذا حیات، خصوصاً انبیاء کی حیات، کو بیان کرنا نہایت ضروری ہے۔

 عقلی اعتبار سے دیکھا جائے تو ہمیں فرشتے نظر نہیں آتے، لیکن کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ موجود نہیں؟

 پس اگر ہمیں کسی شے کا شعور یا ادراک نہ ہو، تو یہ اس کی عدمِ موجودگی کی دلیل نہیں ہو سکتی۔

بہت سی احادیث اور نبی اکرم ﷺ کے ارشادات سے یہ بات واضح طور پر ثابت ہوتی ہے کہ انبیاء علیہم السلام اپنی قبور میں شاندار اور قطعی حیات رکھتے ہیں۔

 اب ہم اہلِ سنت والجماعت کے اس عقیدے کی وضاحت کی طرف آتے ہیں کہ انبیاء اپنی قبور میں زندہ ہیں، اور ہمیں ایک دوسرے سے بھی بہتر سنتے ہیں۔

 مزید یہ کہ وہ ہمارے لیے دعا کرتے ہیں، جب ان سے دعا کرنے کی درخواست کی جائے۔

 (اور استغاثہ کے بارے میں ہمارا عقیدہ یہی ہے کہ انبیاء اور صالحین سے عبادت کے طور پر دعا نہیں کی جاتی، نہ ہی یہ مانا جاتا ہے کہ وہ خود قادر ہیں، جیسا کہ سلفی ہمارے بارے میں غلط پروپیگنڈا کرتے ہیں۔)

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ لفظ ‘دعا’ قرآنِ کریم میں مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ لہٰذا نبی کو ندا یا پکار کے طور پر بلانا شرک نہیں ہو سکتا، جب تک کہ اس میں عبادت کا تصور شامل نہ ہو۔

 ہم اس حوالے سے پہلے ہی قرآن سے دلائل و شواہد پیش کر چکے ہیں۔

مزید برآں، ایک صحیح حدیث میں اللہ تعالیٰ یہی لفظ ‘دعا’ حضرت جبرائیلؑ کو بلانے کے لیے استعمال فرماتا ہے۔

 تو کیا سلفی اپنی غلط تعبیر کے مطابق یہ سمجھتے ہیں کہ وہاں بھی ‘دعا’ عبادت کے معنی میں استعمال ہوئی ہے؟ (نعوذباللہ)حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

إن اللہ تعالى إذا أحب عبدًا دعا جبريل

ترجمہ: جب اللہ اپنے کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو وہ جبرائیل کو بلاتا ہے اور کہتا ہے۔۔۔ (صحیح مسلم 6705)

لہٰذا سلفیوں کو لوگوں کو یہ کہہ کر گمراہ کرنا چھوڑ دینا چاہئے کہ اہل سنت انبیاء اور اولیاء سے عبادت کے طور پر دعا کرتے ہیں۔

مردوں کے سننے کے موضوع پر قرآن کہتا ہے: 

اس وقت (صالح علیہ السلام) ان سے منہ موڑ کر چلے اور فرمانے لگے کہ اے میری قوم ! میں نے تو تم کو اپنے پروردگار کا حکم پہنچا دیا تھا اور میں نے تمہاری خیر خواہی کی لیکن تم لوگ خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے۔ 

(محمد جوناگڑھی الاعراف:79) 

ابن کثیر اس کی تفسیر میں کہتے ہیں: 

هذا تقريع من صالح عليه السلام لقومه، لما أهلكهم اللہ بمخالفتهم إياه وتمردهم على اللہ وإبائهم عن قبول الحق وإعراضهم عن الهدى إلى العمى، قال لهم صالح ذٰلك بعد هلاكهم،۔تقريعاً وتوبيخاً وهم يسمعون ذٰلك، كما ثبت في الصحيحين أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلّم لما ظهر على أهل بدر أقام هناك ثلاثاً، ثم أمر براحلته فشدت بعد ثلاث من آخر الليل فركبها ثم سار حتى وقف على القليب قليب بدر، فجعل يقول ’’يا أبا جهل بن هشام ياعتبة بن ربيعة ياشيبة بن ربيعة ويا فلان هل بن فلان هل وجدتم ما وعد ربكم حقاً، فإني وجدت ما وعدني ربي حقاً‘‘ فقال له عمر: يارسول اللہ ما تكلم من أقوام قد جيفوا ؟ فقال ’’والذي نفسي بيده ما أنتم بأسمع لما أقول منهم ولكن لا يجيبون

ترجمہ:یہ سرزنش کے کلمات تھے جو حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہے،جب اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کی نافرمانی، سرکشی، اور حق کو رد کرنے کے باعث ہلاک کر دیا،اور انہوں نے ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی کو اختیار کیا۔حضرت صالح علیہ السلام نے یہ الفاظ ان کی ہلاکت کے بعد کہے،بطورِ سرزنش اور ملامت، اور وہ یہ بات سن رہے تھے۔اسی طرح صحیح بخاری و مسلم میں ثابت ہے کہ:جب رسول اللہ ﷺ نے جنگ بدر میں کفار کو شکست دی،تو آپ ﷺ وہاں تین دن قیام پذیر رہے۔پھر آپ نے رات کے آخری حصے میں اپنی سواری تیار کرنے کا حکم دیا،پھر روانہ ہو کر بدر کے کنویں (قَليب بدر) کے کنارے آ کر کھڑے ہوئے(جہاں کفار کی لاشیں پھینکی گئی تھیں) اور فرمایا:"اے ابو جہل بن ہشام! اے عتبہ بن ربیعہ! اے شیبہ بن ربیعہ! اور اے فلاں ابن فلاں!کیا تم نے اپنے رب کا وہ وعدہ سچ پایا جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا؟پس بے شک میں نے اپنے رب کا وعدہ سچ پایا ہے!"تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:"یا رسول اللہ! آپ ان لوگوں سے کلام فرما رہے ہیں جو گل سڑ چکے ہیں؟"تو آپ ﷺ نے فرمایا:"اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے!تم جو کچھ میں کہہ رہا ہوں، اس کو سننے میں ان سے زیادہ نہیں ہو!لیکن وہ جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے۔"

(تفسیر ابن کثیر الاعراف # 79 کے تحت)

تفسیرِ ابنِ کثیر، سورۃ الروم (آیت 52) کے تحت، اس مسئلے کی تفصیل بیان کرتی ہے اور سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے موقف کی تردید کرتے ہوئے، ابنِ عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر اصحابِ رسول، جیسے عمر رضی اللہ عنہ اور ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے موقف کو درست قرار دیتی ہے۔سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، اپنی عظمت و شان کے باوجود، معصوم نہ ہونے کے باعث ان روایات کے پیشِ نظر اس معاملے (یعنی مردوں کے سننے) میں ابنِ عمر رضی اللہ عنہ کو غلط قرار دے بیٹھیں۔

اب ہم ابنِ کثیرکی تفسیر نقل کریں گے، جہاں وہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے انکار کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

والصحيح عند العلماء رواية عبد اللہ بن عمر؛ لما لها من الشواهد على صحتها من وجوه كثيرة

ترجمہ:"علماء کے نزدیک راجح (درست) قول، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے،کیونکہ اس کی صحت پر کئی پہلوؤں سے متعدد دلائل (شواہد) موجود ہیں۔"

 (تفسیر حافظ ابن کثیر 30:52 کے تحت)

دار الطیبی اور دار إحياء التراث العربی کے نسخوں میں مزید ہے کہ: 

من أشهر ذٰلك ما رواه ابن عبد البر مصححاً له عن ابن عباس مرفوعاً: ’’ما من أحد يمر بقبر أخيه المسلم كان يعرفه في الدنيا، فيسلم عليه، إلا رد اللہ عليه روحه حتى يرد عليه السلام ‘‘۔ وثبت عنه صلى اللہ عليه وسلم لأمته إذا سلموا على أهل القبور أن يسلموا عليهم سلام من يخاطبونه، فيقول المسلم: السلام عليكم دار قوم مؤمنين، وهذا خطاب لمن يسمع ويعقل، ولولا هٰذا الخطاب،لكانوا بمنزلة خطاب المعدوم والجماد، والسلف مجمعون على هذا، وقد تواترت الآثار عنهم بأن الميت يعرف بزيارة الحي له

ترجمہ:ان (دلائل) میں سب سے مشہور وہ روایت ہے جسے امام ابن عبدالبر نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً اور صحیح سند کے ساتھ نقل کیا، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"کوئی بھی شخص جب اپنے مسلمان بھائی کی قبر کے پاس سے گزرتا ہے،جسے وہ دنیا میں پہچانتا تھا،اور اُسے سلام کرتا ہے،تو اللہ تعالیٰ اُس (مرنے والے) کی روح کو واپس لوٹا دیتا ہےتاکہ وہ سلام کا جواب دے۔"اسی طرح نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی امت کو یہ سکھایا کہ جب وہ قبروں کے پاس جائیں تو ایسے سلام کریں جیسے زندہ لوگوں کو مخاطب کیا جاتا ہے،یعنی یوں کہیں:"السلام علیکم دارَ قومٍ مؤمنين"یہ ایسا خطاب ہے جو سننے اور سمجھنے والوں کے لیے ہوتا ہے۔اگر ایسا نہ ہوتا (یعنی مردے نہ سنتے)، تو یہ ایسا خطاب ہوتا جیسے کسی معدوم یا بے جان چیز سے کیا گیا ہو۔سلف صالحین کا اس بات پر اجماع ہے،اور ان سے متواتر روایات وارد ہوئی ہیں کہ:"میت اپنی قبر پر آنے والے کو پہچانتا ہے اور اس سے خوش ہوتا ہے۔" (تفسیر ابن کثیر الروم:52 کے تحت)

سلفیوں کے بڑے عالم شیخ ابن قیم نے ایک حدیث کی شرح میں کہا: 

ترجمہ: ان لوگوں کے لئے جو مردوں کو سلام کرنے کے لئے حاضر ہوتے ہیں، لفظ ’’زائر‘‘ استعمال کرنا کافی ہے، کیوںکہ اگر ان کو (مردوں کو) فہم نہ ہوتا تو لفظ زائر استعمال کرنا کیوں کر صحیح ہوتا ؟ اور اگر اس کو نہ معلوم ہوتا کہ اس کے لیے کون آیا ہے تو لفظ زائر استعمال کرنا صحیح نہ ہوتا۔

(کتاب الروح ابن قیم صفحہ 14)

اس کے علاوہ بخاری اور مسلم کی صحیح مرفوع حدیث سے ثابت ہے کہ مردے ہمیں ہم سے بھی بہتر سنتے ہیں۔ ملاحظہ کیجئے:

عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْعَبْدُ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ، وَتُوُلِّيَ وَذَهَبَ أَصْحَابُهُ حَتَّى إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ، أَتَاهُ مَلَكَانِ فَأَقْعَدَاهُ فَيَقُولاَنِ لَهُ مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم فَيَقُولُ أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ‏.‏ ‏

ترجمہ:نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"جب بندے کو قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی دفن کر کے پیٹھ موڑ کر واپس چلے جاتے ہیں،تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے۔پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں:"اس شخص (یعنی محمد ﷺ) کے بارے میں تم کیا کہتے تھے؟"اگر وہ مومن ہوتا ہے تو کہتا ہے:"میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔"(صحیح بخاری 1338)

جب (بدر کے) کفار مقتولین کنویں میں ڈالے جانے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’کیا تم نے اس چیز کو پا لیا جس کا تم سے تمہارے رب نے وعدہ کیا تھا؟‘‘ موسیٰ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ایسے لوگوں کو آواز دے رہے ہیں جو مر چکے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو کچھ میں نے ان سے کہا ہے اسے خود تم نے بھی ان سے زیادہ بہتر طریقہ پر نہیں سنا ہو گا، مگر وہ جواب نہیں دے سکتے‘‘۔ (صحیح بخاری:1379)

 عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ قَتْلَى بَدْرٍ ثَلَاثًا ثُمَّ أَتَاهُمْ، فَقَامَ عَلَيْهِمْ فَنَادَاهُمْ، فَقَالَ: يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ، يَا أُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ، يَا عُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، يَا شَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ أَلَيْسَ قَدْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا؟ فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا "، فَسَمِعَ عُمَرُ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يَسْمَعُوا وَأَنَّى يُجِيبُوا وَقَدْ جَيَّفُوا؟، قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ، وَلَكِنَّهُمْ لَا يَقْدِرُونَ أَنْ يُجِيبُوا "، ثُمَّ أَمَرَ بِهِمْ فَسُحِبُوا فَأُلْقُوا فِي قَلِيبِ بَدْرٍ "

ترجمہ:حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:رسول اللہ ﷺ نے بدر کے مقتولین کی لاشوں کو تین دن تک چھوڑے رکھا،پھر آپ ان کے پاس تشریف لے گئے اور ان پر کھڑے ہو کر فرمایا:"اے ابو جہل بن ہشام! اے امیہ بن خلف! اے عتبہ بن ربیعہ! اے شیبہ بن ربیعہ!کیا تم نے اپنے رب کے وعدے کو سچ نہ پایا؟میں تو اپنے رب کے وعدے کو سچا پا چکا ہوں!"یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:"یا رسول اللہ! یہ لوگ کیسے سن سکتے ہیں؟ اور کیسے جواب دیں گے؟جبکہ ان کے جسم گل سڑ چکے ہیں!"تو آپ ﷺ نے فرمایا:"اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!تم جو بات میں کہہ رہا ہوں، اسے سننے میں ان سے زیادہ نہیں ہو۔لیکن وہ جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے!"پھر آپ نے حکم دیا، اور انہیں گھسیٹ کر بدر کے کنویں میں پھینک دیا گیا۔ (صحیح مسلم:7223)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ قبرستان میں آئے اور فرمایا: ’’اے ایمان والی قوم کے گھرانے ! تم سب پر سلامتی ہو اور ہم بھی ان شاء اللہ تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں، میری خواہش ہے کہ ہم نے اپنے بھائیوں کو (بھی) دیکھا ہوتا۔۔۔ (صحیح مسلم 584)

اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ سلام انہیں کیا جاتا ہے جو ہمیں سنتے ہیں اور رسول اللہ نے بھی ان سے بات کی۔ 

ایک طویل حدیث ہے جس میں صحابی اختتام میں کہتے ہیں: 

جب میں مر جاؤں تو کوئی نوحہ کرنے والی میرے ساتھ نہ جائے، نہ ہی آگ ساتھ ہو اور جب تم مجھے دفن کر چکو تو مجھ پر آہستہ آہستہ مٹی ڈالنا، پھر میری قبر کے گرد اتنی دیر (دعا کرتے ہوئے) ٹھہرنا، جتنی دیر میں اونٹ ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کیا جا سکتا ہے تاکہ میں تمہاری وجہ سے (اپنی نئی منزل کے ساتھ) مانوس ہو جاؤں اور دیکھ لوں کہ میں اپنے رب کے فرشتوںکو کیا جواب دیتا ہوں۔ (صحیح مسلم 321)۔ 

یہ حدیث واضح طور پر ثابت کرتی ہے کہ اہل قبور صرف ہمیں سنتے ہی نہیں بلکہ ہماری موجودگی سے لطف بھی اٹھاتے ہیں۔ 

 أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا وُضِعَتِ الْجَنَازَةُ فَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ، فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَالَتْ قَدِّمُونِي قَدِّمُونِي‏.‏ وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ قَالَتْ يَا وَيْلَهَا أَيْنَ يَذْهَبُونَ بِهَا‏.‏ يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَىْءٍ إِلاَّ الإِنْسَانَ، وَلَوْ سَمِعَهَا الإِنْسَانُ لَصَعِقَ ‏"‏‏.‏

ترجمہ:حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جب جنازہ رکھ دیا جاتا ہے اور لوگ اسے اپنی گردنوں پر اٹھاتے ہیں،تو اگر میت نیک ہو، تو وہ کہتی ہے:’مجھے آگے لے چلو، مجھے آگے لے چلو!‘اور اگر وہ نیک نہ ہو، تو کہتی ہے:’ہائے افسوس! یہ مجھے کہاں لے جا رہے ہیں؟‘اس کی یہ آواز انسان کے سواہر چیز سنتی ہے،اور اگر انسان اسے سن لے، تو بے ہوش ہو جائے۔" (صحیح بخاری:1380)

یہ حدیث ثابت کرتی ہے کہ مردے بولتے بھی ہیں مگر ہمیں ان کی آواز سنائی نہیں دیتی۔ 

آئیے اب ایک روایت کو دیکھتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ انبیاء صرف ہمیں سنتے ہی نہیں بلکہ ہمیں قبر کے اندر سے جواب بھی دیتے ہیں۔ 

أخبرنا مروانُ بنُ محمدٍ عن سعيدِ بن عبدِالعزيزِ،، قال: لما كانَ أيام الحرةِ، لم يؤدَّنْ في مسجدِ النبيِّ صلى اللہ عليه وسلّم ثلاثاً ولم يُقَمْ ولم يبرحْ سعيدُ بن المسيِّبِ من المسجِدِ، وكان لا يعرفُ وقتَ الصلاةِ إلاَّ بهمهمةٍ يَسْمَعُها من قبرِ النبيِّ صلى اللہ عليه وسلّم فذكَرَ معناهُ۔

ترجمہ:سعید بن عبدالعزیز بیان کرتے ہیں کہ:"جب واقعۂ حرّہ کے دن آئے،تو تین دن تک مسجد نبوی میں نہ اذان دی گئی، نہ اقامت۔سعید بن المسیب ان تین دنوں میں مسجد ہی میں مقیم رہے۔وہ نماز کے اوقات کا اندازہ صرف اس ہمہمہ (ہلکی آواز) سے لگاتے تھےجو انہیں رسول اللہ ﷺ کی قبر مبارک سے سنائی دیتی تھی۔"

 (سنن دارمی جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 44 حدیث نمبر 94، شائع کردہ دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان، مشکوٰۃ المصابیح میں کرامات کے بعد میں میں حدیث نمبر 5951-یہ اس حدیث کے تمام رواۃ ثقہ ہیں لیکن سند منقطع ہے ۔اور علماء نے اس سے انبیاء کی حیات پر دلیل پکڑی ہے ۔)

امام جلال الدین السیوطی اس روایت کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں: 

فهذه الأخبار دالة على حياة النبي صلى اللہ عليه وسلّم وسائر الأنبياء

ترجمہ:"یہ روایات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ اور دیگر تمام انبیاء علیہم السلام زندہ ہیں۔"  (الحاوی للفتاویٰ 2/266 شائع کردہ مکتبہ العشریہ)

یہ اگلی روایت نزول عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ہے جس میں وہ رسول اللہﷺ کی قبر پر تشریف لائیں گے ان سے مخاطب ہوں گے اور رسول اللہﷺ انہیں جواب دیں گے۔ 

حدثنا أحمد بن عيسى حدثنا ابن وهب عن أبي صخر أن سعيدا المقبري أخبره أنه سمع أبا هريرة يقول: سمعت رسول اللہ ـ صلى اللہ عليه و سلم ـ يقول والذي نفس أبي القاسم بيده لينزلن عيسى بن مريم إماما مقسطا وحكما عدلا فليكسرن الصليب وليقتلن الخنزير وليصلحن ذات البين وليذهبن الشحناء وليعرضن عليه المال فلا يقبله ثم لئن قام على قبري فقال: يا محمد لأجيبنه -إسناده صحيح 

ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:"اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں ابو القاسم (ﷺ) کی جان ہے!ضرور نازل ہوں گے عیسیٰ ابن مریم ایک عادل امام اور منصف حاکم کے طور پر۔وہ صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے،لوگوں کے باہمی جھگڑوں کو ختم کریں گے،دلوں سے بغض و کینہ مٹا دیں گے،ان کے سامنے مال پیش کیا جائے گا لیکن وہ اسے قبول نہیں کریں گے۔پھر اگر وہ میری قبر کے پاس آ کر کہیں: "یا محمد!"تو میں ضرور ان کو جواب دوں گا۔"

(ابو یعلی نے اسے اپنی مسند میں صحیح سند سے نقل کیا جلد کا نمبر 11 صفحہ 462 حدیث نمبر: 6584)

سلفی عالم حسین سلیم اسد نے اپنی مسند ابو یعلیٰ کی تحقیق میں اس کی سند کو صحیح کہا۔ (اوپر دیئے گئے حوالے کے مطابق)۔ 

امام نور الدین الہیثمی نے اس حدیث کے بارے میں کہا: 

رواه أبو يعلى ورجاله رجال الصحيح

ترجمہ: اسے ابو یعلی نے روایت کیا اور اس کے سارے راوی صحیح کے راوی ہیں۔ (مجمع الزوائد جلد نمبر 8، صفحہ 387 حدیث: 13813) 

قارئین کرام کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اتنی زیادہ مرفوع احادیث کے ہوتے ہوئے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے موقوف حدیث قبول نہیں کی جا سکتی۔

اور یہ سادہ سا اصول حدیث ہے جو ہر جوان اور بزرگ کو معلوم ہونا چاہیے۔

 شیخ الاسلام ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں ثابت کیا ہے: 

رواية يونس بن بكير بإسناد جيد عن عائشة مثل حديث أبي طلحة وفيه: ’’ما أنتم بأسمع لما أقول منهم‘‘ وأخرجه أحمد بإسناد حسن، فإن كان محفوظاً فكأنها رجعت عن الاِنكار لما ثبت عندها من رواية هؤلاء الصحابة لكونها لم تشهد القصة، قال الاِسماعيلي: كان عند عائشة من الفهم والذكاء وكثرة الرواية والغوص على غوامض العلم ما لا مزيد عليه، لكن لا سبيل إلى رد رواية الثقة إلا بنص مثله يدل على نسخه أو تخصيصه أو استحالته

ترجمہ:یونس بن بُکیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک اچھی سند کے ساتھ وہی حدیث روایت کی ہے جو ابو طلحہ کی حدیث کے مشابہ ہے، اور اس میں یہ الفاظ ہیں:"تم میرے کہنے کو ان (مردوں) سے زیادہ نہیں سنتے"۔اسے امام احمد نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔اگر یہ روایت محفوظ (درست) ہو، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے سابق انکار سے رجوع کر لیا جب ان کے سامنے دیگر صحابہ (مثلاً ابن عمر، ابو طلحہ وغیرہ) کی روایتیں آ گئیں، کیونکہ وہ خود واقعۂ بدر کی شاہد نہ تھیں۔اسماعیلی کہتے ہیں:حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس فہم، ذکاوت، روایات کی کثرت، اور علم کی گہرائی ایسی تھی کہ اس کی کوئی مثال نہیں دی جا سکتی۔لیکن اس کے باوجود، ثقہ راوی کی روایت کو رد کرنے کا کوئی جواز نہیں جب تک کہ کوئی ایسی صریح نص نہ ہو جو اس روایت کو منسوخ، مخصوص یا محال (ناقابلِ وقوع) ثابت کرے۔

(فتح الباری شرح صحیح البخاری 8/34 شایع کردہ دارالفکر بیروت لبنان)

نوٹ کرنے کے لیے نقاط: 

1-جب بھی ایسا محسوس ہو کے صحابہ کے مابین کوئی تضاد ہے۔ تو مرفوع حدیث کی طرف رجوع کرنا چاہیے تاکہ حقیقت کو سمجھا جا سکے۔ یا پھر ہم صحابی کے اس قول کی تاویل کرتے ہیں جو نبی کے قول کے خلاف ہو۔ 

امام ابوداؤد ایک حدیث نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں: 

اگر رسول اللہ کی کسی دو روایات میں تضاد ہو۔ تو ہم وہ لیتے ہیں جس پر صحابہ کا عمل تھا۔ (سنن ابی داؤد حدیث 1577 کے تحت)

لہٰذا ہم جمہور صحابہ کے موقف کو اپناتے ہیں جو واقعے کے وقت موجود تھے جیسے ابن عمر (رضی اللہ عنہ)،عمر (رضی اللہ عنہ)، ابو طلحہ (رضی اللہ عنہ)۔ 

2-  اس معاملے میں سیّدہ عائشہ نے اپنے پرانے موقف سے رجوع کر لیا تھا جیسا کہ مسند احمد کی حسن درجے کی روایت سے ہم نے ثابت کیا تھا۔

 قَالَ قَتَادَةُ أَحْيَاهُمُ اللَّهُ حَتَّى أَسْمَعَهُمْ قَوْلَهُ تَوْبِيخًا وَتَصْغِيرًا وَنَقِيمَةً وَحَسْرَةً وَنَدَمًا‏.‏

ترجمہ:"اللہ تعالیٰ نے انہیں (کفارِ بدر کو) زندہ کر دیا تاکہ نبی کریم ﷺ ان سے جو بات کہہ رہے تھے، وہ سن سکیں یہ سنانا ان کی توبیخ، ذلت، بدلہ، حسرت اور ندامت کے لیے تھا۔"(صحیح بخاری 3976) 

سلفی حضرات اس قول کو اکثر بنیاد بناتے ہیں، حالانکہ یہ صرف قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

 تابعی کا قول مرفوع یا موقوف احادیث کے مقابلے میں حجت نہیں ہوتا اور قبولیت کا درجہ نہیں رکھتا۔

جب واضح دلائل پیش کیے جاتے ہیں تو سلفی حضرات ان آیات کو غلط طور پر استعمال کرتے ہیں جو دراصل کفار اور ان کے بتوں کے بارے میں نازل ہوئیں، اور ان کا اطلاق انبیاء علیہم السلام پر کرنے لگتے ہیںصالحین پر لاگو کرنا تو اس سے بھی زیادہ بے جا ہے۔

مثلاً وہ سورۃ النمل (آیت 80) اور سورۃ فاطر (آیت 22) جیسی آیات کا غلط استعمال کرتے ہیں، حالانکہ دونوں آیات سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ان کا تعلق کفار سے ہے، جن کے بارے میں فرمایا گیا کہ "کفار اب ہدایت کے قابل نہیں رہے"۔

سورۃ النمل (آیت 80) خود اپنے مفہوم کی وضاحت کرتی ہے:"اور نہ تم بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہو جبکہ وہ پیٹھ پھیرے رُوگرداں جا رہے ہوں۔"

لیکن سلفی حضرات اگلی آیت کو نقل نہیں کرتے، جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

 اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے ہٹا کر رہنمائی کر سکتے ہیں آپ تو صرف انہیں سنا سکتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے ہیں پھر وہ فرمانبردار ہو جاتے ہیں۔ (محمد جوناگڑھی سورہ نمل:81) 

پس سیاق و سباق سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں مومنین اور کفار کے درمیان تمثیل قائم کی ہے۔

 کفار کو "اندھا" اور "بہرا" کہا گیا ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ نہ اندھے تھے نہ بہرے۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ صرف وہی لوگ سننے اور ہدایت پانے کے اہل ہیں جو ایمان رکھتے ہیں۔

اسی طرح سلفی حضرات سورۃ فاطر (آیات 20 تا 21) کو بھی سیاق سے توڑ کر پیش کرتے ہیں، حالانکہ آیات اپنے تناظر میں یوں فرماتی ہیں:

"اور نہ چھاؤں اور نہ دھوپ (برابر ہو سکتے ہیں)، اور زندے اور مردے برابر نہیں ہو سکتے۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے سنا دیتا ہے، اور آپ ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں۔ آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں۔"

یہ آیات بھی دراصل ایمان والوں اور کفار کے مابین تمثیل بیان کر رہی ہیں، نہ کہ مومنین یا انبیاء کے بارے میں کوئی عقیدہ واضح کر رہی ہیں۔

امام جلال الدین سیوطی اور المحلی فاطر:22 کی مشہور تفسیر الجلالین میں یوں تفسیرکرتے ہیں: 

﴿وما يَسْتَوِي الأَحْياء ولا الأَمْوات﴾ المُؤْمِنُونَ ولا الكُفّار وزِيادَة لا فِي الثَّلاثَة تَأْكِيد ﴿إنّ اللَّه يَسْمَع مَن يَشاء﴾ هِدايَته فَيُجِيبهُ بِالإيمانِ ﴿وما أنْتَ بِمُسْمِعٍ مَن فِي القُبُور﴾ أيْ الكُفّار شَبَّهَهُمْ بِالمَوْتى فَيُجِيبُونَ

ترجمہ:نہ ہی زندہ اور مردے نہ ہی مومن اور کافر برابر ہو سکتے ہیں (تینوں جگہوں میں لاکی زیادتی تاکید کے لئے ہے)۔؛اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی ہدایت سنا دیتا ہے تو وہ اس پر لبیک کہتا ہے اورآپ ان لوگوں کو سنا نہیں سکتے جو قبروں میں ہیں یعنی مردوں سے تشبیہ دی ہے اس لیے کہ وہ جواب نہیں دیتے (ہدایت کو قبول نہیں کرتے)۔ (تفسیر الجلالین فاطر:22کے تحت)

یہ بنا کسی شک کے ثابت کرتا ہے کہ قرآن استعاری طور پر کلام کر رہا ہے اور مردہ کفار کے بارے میں بات کر رہا ہے کہ ’’ اب ہدایت پانے کے قابل نہیں‘‘۔ 

اگر ان آیات کا غلط ظاہری معنی لے کر ہم سماع الموتیٰ کا انکار کریں تو نعوذ باللہ قرآن اور سنت کا آپسی تضاد ہو جائے گا جو کہ ناممکن ہے۔ 

ہم نے پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ خوارج ابن عمر (رضی اللہ عنہ) کے نزدیک بدترین مخلوق تھے کیونکہ وہ ان آیات کو مومنین پر لاگو کرتے تھے جو کفار کے لئے نازل ہوئیں۔ 

صحیح بخاری کی وہ روایت اس قابل ہے کہ اسے یہاں نقل کیا جائے جسے سلفی توڑ موڑ کر لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ یہی حدیث رسول اللہﷺ کی حیات اور مردہ کو براہ راست مخاطب کرنا ثابت کرتی ہے جو صحابہ کا عقیدہ تھا جیسے ابوبکر (رضی اللہ عنہ)۔ 

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے گھر سے جو سنح میں تھا گھوڑے پر سوار ہو کر آئے اور اترتے ہی مسجد میں تشریف لے گئے۔ پھر آپ کسی سے گفتگو کئے بغیر عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ میں آئے (جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسد مبارک رکھا ہوا تھا) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بردحبرہ (یمن کی بنی ہوئی دھاری دار چادر) سے ڈھانک دیا گیا تھا۔ پھر آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک کھولااور جھک کر اس کا بوسہ لیا اور رونے لگے۔ آپ نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اے اللہ کے نبی! اللہ تعالیٰ دو موتیں آپ پر کبھی جمع نہیں کرے گا۔ سوا ایک موت کے جو آپ کے مقدر میں تھی سو آپ وفات پا چکے۔ ابوسلمہ نے کہا کہ مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ جب باہر تشریف لائے تو عمر رضی اللہ عنہ اس وقت لوگوں سے کچھ باتیں کر رہے تھے۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :

کہ بیٹھ جاؤ۔ لیکن عمر رضی اللہ عنہ نہیں مانے۔ پھر دوبارہ آپ نے بیٹھنے کے لیے کہا۔ لیکن عمر رضی اللہ عنہ نہیں مانے۔ آخر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھا تو تمام مجمع آپ کی طرف متوجہ ہو گیا اور عمر رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا۔ آپ نے فرمایا امابعد! اگر کوئی شخص تم میں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو چکی اور اگر کوئی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ باقی رہنے والاہے۔ کبھی وہ مرنے والا نہیں۔ اللہ پاک نے فرمایا ہے ’’اور محمد صرف اللہ کے رسول ہیں اور بہت سے رسول اس سے پہلے بھی گزر چکے ہیں‘‘ ’’الشاكرين‘‘ تک (آپ نے آیت تلاوت کی) قسم اللہ کی ایسا معلوم ہوا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آیت کی تلاوت سے پہلے جیسے لوگوں کو معلوم ہی نہ تھا کہ یہ آیت بھی اللہ پاک نے قرآن مجید میں اتاری ہے۔ اب تمام صحابہ نے یہ آیت آپ سے سیکھ لی پھر تو ہر شخص کی زبان پر یہی آیت تھی۔ (صحیح بخاری: 1241)

اس حدیث سے درجِ ذیل نکات قابلِ غور ہیں:

1-سلفی منطق کے مطابق گویا سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے (نعوذباللہ) ایک ظاہری طور پر وفات پا چکے شخص کو جھک کر بوسہ دیا، اور وہ بھی روتے ہوئے، جو ان کے موقف کے مطابق درست عمل نہیں ٹھہرتا۔

2-پھر انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو براہِ راست مخاطب کیا، اس پختہ یقین کے ساتھ کہ آپ ﷺ سن سکتے ہیں۔

 ورنہ سلفی منہج کے مطابق تو یہ کہنا لازم آئے گا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے غیر ضروری گفتگو کی (نعوذباللہ)۔ 

یاد رکھئے، لفظ "یا" صرف اسی کو مخاطب کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے جو سننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

حدیث کے اختتام میں الفاظ ہیں:

 "تم میں سے جو کوئی محمد کی عبادت کرتا تھا..."

اگر ان الفاظ کو محض ظاہری معنی میں لیا جائے، تو لازم آتا ہے کہ بعض صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) رسول اللہ ﷺ کی عبادت کرتے تھےاور اسی غلط فہمی کی تردید ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمائی۔

لہٰذا حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ صرف ان لوگوں کے لیے "مردہ" ہیں جو آپ کو (نعوذباللہ) اللہ کا بیٹا مانتے ہیں یا آپ کی عبادت کرتے ہیں۔ ورنہ آپ ﷺ اپنی امت کے لیے زندہ ہیں، اور آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق عطا کیا جاتا ہے۔

نوٹ:جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ ﷺ کی وفات کا ذکر کرتے تھے، ان کا مقصود صرف ظاہری موت یا عارضی طور پر موت کو چکھنے کا بیان ہوتا تھا۔

 اس کے علاوہ، یہ عقیدہ کسی بھی صحابی کا نہیں تھا کہ بت اس طرح سن سکتے ہیں جیسے انبیاء علیہم السلام اپنی قبور میں سنتے ہیں، یا کہ بت جواب دیتے اور شفاعت کرتے ہیں جیسا کہ انبیاء کرتے ہیں۔

سلفی قرآن کی اس آیت کا بھی غلط استعمال کرتے ہیں: 

یقیناً خود آپ کو بھی موت آئے گی اور یہ سب بھی مرنے والے ہیں۔

(محمد جوناگڑھی سورۃ الزمر:30)

مگر وہ پچھلی آیت کو چھوڑ دیتے ہیں جس میں ہے: 

اللہ تعالیٰ مثال بیان فرما رہا ہے کہ ایک وہ شخص جس میں بہت سے باہم ضد رکھنے والے ساجھی ہیں، اور دوسرا وہ شخص جو صرف ایک ہی کا (غلام) ہے، کیا یہ دونوں صفت میں یکساں ہیں؟ اللہ تعالیٰ ہی کے لئے سب تعریف ہے بات یہ ہے کہ ان میں سےاکثر لوگ سمجھتے نہیں۔ (محمد جوناگڑھی سورۃ الزمر:29)

جیسا کہ آیت نمبر 29 میں بیان ہوا ہے، وہاں دو اشخاص کی حالت کا فرق واضح کیا گیا ہے۔

 اسی طرح نبی اکرم ﷺ کی وفات بھی عام لوگوں کی وفات سے مختلف ہے، کیونکہ دونوں کے حالات اور درجات میں نمایاں فرق ہے۔

عربی صرف و نحو کا یہ اصول ہے کہ اگر دو نکرہ الفاظ ایک ساتھ استعمال ہوں، تو دوسرے نکرہ کا معنی پہلے والے سے جدا ہوتا ہے۔ 

اس آیت میں 'میت' نکرہ کی صورت میں آیا ہے اور اسے نبی اور کفار دونوں پر لاگو کیا گیا ہے۔

 لہٰذا عربی زبان کے اصولوں کے مطابق دونوں اموات کی کیفیت اور حقیقت ایک جیسی نہیں ہو سکتیں۔

اب ہم ان احادیث کی طرف آتے ہیں جو انبیاء علیہم السلام کی قبور میں حیات کے بارے میں صحیح سند کے ساتھ وارد ہوئی ہیں۔

ثبوت۔ 1 (حیات انبیاء پر اور ان کا موازنہ بتوں سے نہیں کیا جاسکتا جیسے سلفی بڑے پیمانے پر موازنہ کرتے ہیں اور اس طرح بدعت کا ارتکاب کرتے ہیں)

عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي اللہ عنه اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلي اللہ عليه وآله وسلم قَالَ: اَتَيْتُ، (وفي رواية هدّاب:) مَرَرْتُ عَلَي مُوْسَي لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عِنْدَ الْکَثِيْبِ الْأَحْمَرِ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي قَبْرِه

ترجمہ:حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"معراج کی شب میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا (یا گزرا، جیسا کہ دوسری روایت میں ہے)، وہ سرخ ٹیلے کے پاس اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔"(صحیح مسلم 6157)

اس حدیث کی صحیح شرح پیش کرنے سے قبل ہم سلفی حضرات سے یہ سوال کرنا چاہتے ہیں:

 کیا بت اپنی قبور میں زندہ رہتے ہیں اور عبادت کرتے ہیں؟ 

اگر سلفی اس کا انکار کرتے ہیں تو پھر ان کی وہ تمام تاویلات، جن میں وہ نبی کریم ﷺ کے وسیلے کو مشرکین کی بت پرستی سے تشبیہ دیتے ہیں، خود بخود باطل ہو جاتی ہیں۔

اس حدیث کی شرح میں امام مناوی امام قرطبی کا قول نقل کرتے ہیں:

الحديث بظاهره يدل على أنه رآه رؤية حقيقية في اليقظة وأنه حي في قبره يصلي الصلاة التي يصليها في الحياة وذٰلك وذٰلك ممكن ولا مانع من ذٰلك

 ترجمہ:"اس حدیث کا ظاہر یہ بتاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حقیقی طور پر بیداری کی حالت میں دیکھا، اور یہ کہ وہ اپنی قبر میں زندہ ہیں اور ویسے ہی نماز پڑھ رہے ہیں جیسے وہ دنیا میں پڑھا کرتے تھے۔ یہ (امر) ممکن ہے، اور اس کو ماننے میں کوئی شرعی یا عقلی رکاوٹ نہیں۔" (فیض القدیر 663/5)

ثبوت 2 (نبی کی گواہی کے ساتھ مرفوع صحیح حدیث)

حدثنا أبو الجهم الأزرق بن علي حدثنا يحيى بن أبي بكير حدثنا المستلم بن سعيد عن الحجاج عن ثابت البناني عن أنس بن مالك: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم: (الأنبياء أحياء في قبورهم يصلون )

 إسناده صحيح 

ترجمہ:انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"انبیاء اپنی قبور میں زندہ ہیں اور نماز (عبادت) ادا کرتے ہیں۔"(مسند ابو یعلیٰ سندہ صحیح جلد 6 صفحہ 147؛حدیث: 3425)

سلفی عالم حسین سلیم اسد نے اپنی مسند ابی یعلی کی تحقیق میں اس کی سند کو صحیح کہا۔ 

امام ہیثمی اس کو روایت کرنے کے بعد کہتے ہیں: 

رواه أبو يعلى والبزار ورجال أبي يعلى ثقات

ترجمہ: ابو یعلی اور بزار نے اسے روایت کیا اور ابو یعلی کے سارے راوی ثقہ ہیں۔ (مجمع الزوائد جلد 8 صفحہ 386 حدیث 13812)۔ 

قال الإمام المناوي في فيض القدير: ’’رواه أبو يعلى عن أنس بن مالك وهو حديث صحيح

ترجمہ: امام المناوی نے فیض القدیر میں کہا: اسے ابو یعلیٰ نے انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا ہے اور یہ حدیث صحیح ہے۔ 

(فیض القدیر 3/184)

البانی صاحب نے امام ذہبی کا ردّ کیا کیونکہ امام ذہبی نے حجاج ابن اسود راوی کے بارے میں غلطی کی۔ 

فقد أورده الذهبي في " الميزان " وقال: ‏‏‏‏" نكرة، ما روى عنه - فيما أعلم - سوى مستلم بن سعيد فأتى بخبر منكر عنه عن ‏‏‏‏أنس في أن الأنبياء أحياء في قبورهم يصلون. رواه البيهقي ". لكن تعقبه الحافظ ‏‏‏‏في " اللسان "، فقال عقبه: " وإنما هو حجاج بن أبي زياد الأسود يعرف بـ " زق ‏‏‏‏العسل " وهو بصري كان ينزل القسامل. روى عن ثابت وجابر بن زيد وأبي نضرة ‏‏‏‏وجماعة. وعنه جرير بن حازم وحماد بن سلمة وروح بن عبادة وآخرون. قال ‏‏‏‏أحمد: ثقة، ورجل صالح، وقال ابن معين: ثقة، وقال أبو حاتم: صالح ‏‏‏‏الحديث، وقال ابن معين: ثقة، وقال أبو حاتم: صالح الحديث وذكره ابن حبان ‏‏‏‏في " الثقات "

ترجمہ:امام ذہبی نے اسے اپنی کتاب "الميزان" میں ذکر کیا اور کہا:"یہ نکرہ (مجہول راوی) ہے، اور جتنا میں جانتا ہوں اس سے صرف مستلم بن سعید نے روایت کی ہے، جس نے اس سے حضرت انس کے واسطے سے یہ منکر حدیث نقل کی کہ:"انبیاء اپنی قبور میں زندہ ہوتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں" اور اس روایت کو بیہقی نے نقل کیا ہے۔لیکن حافظ ابن حجرؒ نے "لسان الميزان" میں امام ذہبیؒ پر تنقید کرتے ہوئے لکھا:"یہ دراصل حجاج بن ابی زیاد الاسود ہے، جسے زُقُّ العسل کے لقب سے پہچانا جاتا ہے۔یہ بصرہ کا رہنے والا تھا اور قَسامل میں مقیم تھا۔اس نے ثابت، جابر بن زید، ابو نضرہ اور کئی دیگر سے روایت کی،اور اس سے جرير بن حازم، حماد بن سلمة، روح بن عبادة وغیرہ نے روایت کی ہے۔امام احمدؒ نے اس کے بارے میں فرمایا: "یہ ثقہ ہے، نیک شخص تھا"،ابن معینؒ نے بھی کہا: "یہ ثقہ ہے"،امام ابو حاتمؒ نے کہا: "یہ صالح الحدیث ہے"،اور ابن حبانؒ نے اسے اپنی کتاب "الثقات" میں شامل کیا ہے۔"

(سلسلہ احادیث صحیحہ البانی 2/187:نمبر621)

البانی صاحب نے پھر کہا: 

حجاجا هٰذا ثقة بلا خلاف و أن الذهبي توهم

ترجمہ:حجاج اس مقام پر بلا اختلاف ثقہ راوی ہے،اور جہاں امام ذہبی نے اسے مشتبہ قرار دیا یا اس میں غلطی کی۔

(سلسلہ احادیث صحیحہ 2/187: 621)

البانی صاحب نے یہ بھی کہا: 

فقد أخرج له الحاكم في المستدرك ‘‘ ( 4 / 332 ) حديثا آخر ، فقال الذهبي في " تلخيصه ": ’’قلت: حجاج ثقة

ترجمہ:امام حاکم نے مستدرک (جلد 4، صفحہ 332) میں اس (راوی) سے ایک اور حدیث روایت کی ہے،اور امام ذہبی نے اپنی تلخیص المستدرک میں اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:’’میں کہتا ہوں: حجاج ثقہ ہے‘‘۔

 (سلسلہ احادیث صحیحہ 2/187: 621)

شیخ الاسلام ابن حجر عسقلانی نے صرف اس حدیث کی تصحیح نہیں کی بلکہ فتح الباری میں ایک اور جگہ کہا: 

واحسن من هٰذا الجواب ان يقال ان حياته صلى اللہ عليه وسلم في القبر لايعقبها موت بل يستمر حيا والأنبياء احياء في قبورهم

ترجمہ:اور اس (اشکال) کا سب سے اچھا جواب یہ ہے کہ کہا جائے:"رسول اللہ ﷺ کی قبر مبارک میں جو حیات ہے، وہ ایسی زندگی ہے جس کے بعد موت نہیں، بلکہ وہ ہمیشہ جاری رہے گی، کیونکہ انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہوتے ہیں۔"

(فتح الباری شرح صحیح البخاری 7/36 شائع کردہ قدیمی کتب خانہ کراچی پاکستان)

ابن حجر عسقلانی نے اس حدیث کی تصحیح کرتے ہوئے کہا کہ: 

وقد جمع البيهقي كتابا لطيفا في حياة الأنبياء في قبورهم أورد فيه حديث أنس الأنبياء أحياء في قبورهم يصلون أخرجه من طريق يحيى بن أبي كثير وهو من رجال الصحيح عن المستلم بن سعيد وقد وثقه أحمد و ابن حبان عن الحجاج الأسود وهو بن أبي زياد البصري وقد وثقه أحمد وابن معين عن ثابت عنه وأخرجه أيضا أبو يعلى في مسنده من هٰذا الوجه وأخرجه البزار لكن وقع عنده عن حجاج الصواف وهو وهم والصواب الحجاج الأسود كما وقع التصريح به في رواية البيهقي وصححه البيهقي وإذا ثبت أنهم أحياء من حيث النقل فإنه يقويه من حيث النظر كون الشهداء أحياء بنص القرآن والأنبياء أفضل من الشهداء ومن شواهد الحديث ما أخرجه أبو داود من حديث أبي هريرة رفعه وقال فيه وصلوا علي فإن صلاتكم تبلغني حيث كنتم سنده صحيح وأخرجه أبو الشيخ في كتاب الثواب بسند جيد بلفظ من صلى على عند قبري سمعته ومن صلى علي نائيا بلغته وعند أبي داود والنسائي وصححه بن خزيمة وغيره عن أوس بن أوس رفعه في فضل يوم الجمعة فأكثروا علي من الصلاة فيه فإن صلاتكم معروضة علي قالوا يا رسول اللہ وكيف تعرض صلاتنا عليك وقد أرمت قال أن اللہ حرم على الأرض أن تأكل أجساد الأنبياء ومما يشكل على ما تقدم ما أخرجه أبو داود من وجه آخر عن أبي هريرة رفعه ما من أحد يسلم علي إلا رد اللہ علي روحي حتى أرد عليه السلام ورواته ثقات

ترجمہ:امام بیہقی نے "قبروں میں انبیاء کی حیات" پر ایک نہایت عمدہ اور (مختصر )کتاب تصنیف فرمائی ہے، جس میں انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے کہ:"انبیاء اپنی قبور میں زندہ ہیں اور نماز پڑھتے ہیں"۔یہ حدیث یحییٰ بن ابی کثیر کے طریق سے مروی ہے، جو کہ صحیح  کے رجال میں سے ہیں۔ انہوں نے مستلم بن سعید سے روایت کی، جسے امام احمد اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے۔مستلم نے یہ حدیث حجاج الاسود (جو ابن ابی زیاد بصری ہیں) سے روایت کی ہے، اور ان کو بھی امام احمد اور یحییٰ بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے۔اسی سند سے امام ابو یعلیٰ نے اسے اپنی مسند میں نقل کیا، جبکہ امام بزار نے بھی اسے روایت کیا، لیکن وہاں راوی کے نام میں اشتباہ ہو گیا؛ انہوں نے "حجاج الصواف" لکھا، حالانکہ صحیح نام "حجاج الاسود" ہے، جیسا کہ بیہقی نے واضح کیا، اور اسی روایت کو صحیح قرار دیا۔چنانچہ جب حیاتِ انبیاء احادیث (نقل) سے ثابت ہو چکی، تو وہ عقل و قیاس (نظر) سے بھی مضبوط ہو جاتی ہے، کیونکہ شہداء کی حیات قرآنِ کریم کی نصِ قطعی سے ثابت ہے، اور انبیاء کرام تو شہداء سے افضل ہیں۔اس موضوع کی تائید ان احادیث سے بھی ہوتی ہے جنہیں:امام احمد اور ابو داؤد نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے:"تم جہاں کہیں بھی ہو، تمہارا درود مجھ تک پہنچایا جاتا ہے۔"ابو الشیخ نے "کتاب الثواب" میں قوی سند کے ساتھ یہ روایت نقل کی:"جو کوئی میری قبر کے پاس مجھ پر سلام کہے، میں خود اس کا سلام سنتا ہوں،اور جو کوئی دور سے سلام کہے، اس کا سلام مجھ تک پہنچا دیا جاتا ہے۔"اور وہ حدیث جسے ابو داؤد، نسائی، اور امام ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا:"جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔"صحابہ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! آپ تو وفات پا چکے ہوں گے تو کیسے؟"فرمایا: "اللہ نے زمین پر انبیاء کے جسموں کو کھانا حرام کر دیا ہے۔"مزید یہ بھی روایت ہے:"جو بھی مجھ پر سلام بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ میری روح مجھے لوٹا دیتا ہے، یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔"اور اس حدیث کے تمام راوی ثقہ (قابل اعتماد) ہیں۔

 

 

(پھر ابن حجر نے دوسری احادیث بھی دکھائی جیسے اللہ نے زمین پر انبیاء کے جسموں کو کھانا حرام کردیا ہے اور جو کوئی رسول اللہ پر سلام بھیجتا ہے تو اللہ ان کی روح انہیں لوٹا دیتا ہے اور وہ اس کا جواب دیتے ہیں۔ ) 

(فتح الباری جلد نمبر 6 صفحہ نمبر 602 تا 603 قدیمی کتب خانہ کراچی پاکستان)

امام ذہبی، جنہیں سلفی حضرات ‘حیاتِ انبیاء’ کے مسئلے میں غلط طور پر اپنے موقف کے حق میں پیش کرتے ہیں، ان کے ایک جملے کو سیاق و سباق سے کاٹ کر بیان کرتے ہیں، اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انبیاء کی زندگی صرف برزخی ہے یعنی ایک ایسی روحانی دنیا جہاں روحیں وفات کے بعد قیام کرتی ہیں اور اس کا قبور سے کوئی تعلق نہیں۔

لیکن درحقیقت امام ذہبی کا مکمل بیان سلفیوں کے اس کمزور مؤقف کی تردید کرتا ہے۔

امام ذہبی نے ‘حیاتِ انبیاء’ کو ثابت کرنے والی احادیث کے بارے میں فرمایا:

 ولا تأكل الارض جسده، ولا يتغير ريحه، بل هو الآن، وما زال أطيب ريحا من المسك، وهو حي في لحده حياة مثله في البرزخ، التي هي أكمل من حياة سائر النبيين، وحياتهم بلا ريب أتم وأشرف من حياة الشهداء 

ترجمہ:زمین ان (نبی ﷺ) کے جسمِ مبارک کو نہیں کھاتی، اور نہ ہی ان کی خوشبو میں کوئی تبدیلی آتی ہے، بلکہ وہ اب بھی اور ہمیشہ سے مشک سے بھی زیادہ خوشبودار ہیں۔آپ ﷺ اپنی قبر (لحد) میں زندہ ہیں، ایسی زندگی کے ساتھ جو برزخ میں مخصوص ہے،بلکہ آپ کی یہ زندگی تمام انبیاء کی زندگیوں سے زیادہ کامل ہے،اور ان (تمام انبیاء) کی زندگیاں بلا شک و شبہ شہداء کی زندگی سے زیادہ اعلیٰ اور مکمل ہیں۔(سیر اعلام النبلاء 9/161)

ثبوت: 3

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ قُبِضَ وَفِيهِ النَّفْخَةُ وَفِيهِ الصَّعْقَةُ فَأَكْثِرُوا عَلَىَّ مِنَ الصَّلاَةِ فِيهِ فَإِنَّ صَلاَتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَىَّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ تُعْرَضُ صَلاَتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرِمْتَ يَقُولُونَ بَلِيتَ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ عَلَى الأَرْضِ أَجْسَادَ الأَنْبِيَاءِ ‏"‏ ‏.‏

ترجمہ: حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جمعہ تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن ہے؛ اسی دن حضرت آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے، اسی دن ان کا انتقال ہوا، اسی دن صور پھونکا جائے گا، اور اسی دن (قیامت کا) صعقہ واقع ہوگا۔لہٰذا تم اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔"صحابہ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! جب آپ کا جسم (مٹی میں)متغیر،بوسیدہ ہوچکا ہوگا، تو ہمارا درود آپ پر کیسے پیش ہوگا؟"آپ ﷺ نے فرمایا:"بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کے جسموں کو حرام کر دیا ہے (یعنی وہ متغیر ،بوسیدہ نہیں ہوتے )."(سنن ابی داؤد 1047، حدیث کو البانی صاحب نے صحیح کہا)

یہ سنن ابن ماجہ میں بھی صحیح مرسل سند کے ساتھ روایت ہے: 

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ :قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَكْثِرُوا الصَّلاَةَ عَلَىَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَإِنَّهُ مَشْهُودٌ تَشْهَدُهُ الْمَلاَئِكَةُ وَإِنَّ أَحَدًا لَنْ يُصَلِّيَ عَلَىَّ إِلاَّ عُرِضَتْ عَلَىَّ صَلاَتُهُ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهَا قَالَ قُلْتُ وَبَعْدَ الْمَوْتِ قَالَ وَبَعْدَ الْمَوْتِ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى الأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الأَنْبِيَاءِ فَنَبِيُّ اللَّهِ حَىٌّ يُرْزَقُ  

ترجمہ:حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، کیونکہ یہ دن مشہود ہے، اس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور جو شخص بھی مجھ پر درود بھیجتا ہے، اس کا درود جب تک وہ مکمل نہ کرے، مجھے پیش کیا جاتا ہے۔"حضرت ابو درداء کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ کے وصال کے بعد بھی؟آپ ﷺ نے فرمایا: "ہاں، وصال کے بعد بھی۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کے جسموں کو کھائے۔ اللہ کے نبی زندہ ہوتے ہیں، انہیں رزق دیا جاتا ہے۔"(سنن ابن ماجہ 1637)

نوٹ: سلفی محقق زبیر علی زئی صاحب نے اس حدیث، اور اس سے پہلے والی اوس بن اوس رضی اللہ عنہ کی روایت دونوں کو ضعیف قرار دے کر ایک بڑی علمی غلطی کی ہے، حالانکہ اس کے تمام راوی ثقہ اور معتبر ہیں۔

بعد والی روایت مرسل ہے، کیونکہ عبادہ بن نسی، ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ 

حنفی، مالکی اور جمہور محدثین و فقہاء کے نزدیک مرسل حدیث قابلِ قبول ہے، جیسا کہ اگلے باب میں تفصیلاً بیان کیا جائے گا۔

اس حدیث میں یہ الفاظ وارد ہیں کہ: "اللہ کے نبی ﷺ زندہ ہیں اور انہیں رزق عطا کیا جاتا ہے، جبکہ باقی حدیث کے الفاظ سنن ابی داؤد میں بھی مذکور ہیں، جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے۔ یہ اضافہ بھی صحیح ہے، کیونکہ اس مفہوم کی تائید دیگر صحیح احادیث سے ہوتی ہے جو اس باب میں ذکر کی جائیں گی۔

ثبوت: 4۔

 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمُ عَلَىَّ إِلاَّ رَدَّ اللَّهُ عَلَىَّ رُوحِي حَتَّى أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ ‏"‏ ‏.‏

ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جب کوئی شخص مجھ پر سلام بھیجتا ہے، تو اللہ تعالیٰ میری روح مجھے واپس لوٹا دیتا ہے، یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں"۔

(سنن ابی داؤد:2041 اس حدیث کو البانی صاحب نے حسن کہا)

 

امام نووی نے اس حدیث کے بارے میں کہا: 

رواه أبو داود بإسناد صحيح

ترجمہ: اس کو ابو دائود نے صحیح سند کے ساتھ نقل کیا۔(ریاض الصالحین 1/255 حدیث 1402)۔ 

انہوں نے کتاب الاذکار میں بھی کہا:

وروينا فـيه أيضاً بإسناد صحيح، عن أبـي هريرة

ترجمہ: یہ ابوہریرہ سے صحیح سند سے روایت ہے۔ (کتاب الاذکار 1/115) 

سلفیوں کے شیخ الاسلام شیخ ابن تیمیہ اس حدیث کے بارے میں کہتے ہیں: 

وهو حديث جيد

ترجمہ: یہ حدیث جید (قوى) ہے۔ (مجموع الفتاویٰ 27/116)

 سلفیوں کے بڑے عالم قاضی شوکانی اس کو نقل کرنے سے پہلے کہتے ہیں: 

وأصح ما ورد في ذٰلك ما رواه أحمد وأبو داود عن أبي هريرة مرفوعًا

ترجمہ:اس باب میں سب سے صحیح روایت وہ ہے جسے امام احمد اور امام ابو داؤد نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔

 (نیل الاوطار 2/265)

ابن حجر عسقلانی نے اپنی تلخیص الحبیر میں بھی اس کی تصحیح کی (تلخیص الحبیر 2/265)

علامہ زرقانی نے اس حدیث کے بارے میں کہا: 

فقد ثبتت حياة الأنبـياء، لكن يشكل علـيه حديث أبـي هريرة رفعه: ’’ما من أحد يسلـم علـيّ إلا رد اللہ علـي روحي حتـى أرد علـيه السلام‘‘ أخرجه أبو داود ورجاله ثقات

ترجمہ: انبیاء کی قبروں میں حیات (زندہ ہونا) ثابت ہے،البتہ اس پر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ایک اشکال وارد ہوتا ہے، جس میں مرفوعاً (نبی ﷺ سے مروی) ہے:"جب کوئی شخص مجھ پر سلام بھیجتا ہے تو اللہ تعالیٰ میری روح مجھے واپس لوٹا دیتا ہے تاکہ میں اس کے سلام کا جواب دے سکوں"۔اس حدیث کو امام ابو داود نے روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔

 (شرح الزرقانی علی موطا امام مالک 4/282)

ثبوت: 5

حدَّثَنَا يُوْسُفُ بْنُ مُوْسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ اَبِي رَوَّادَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ عَبْدِ اللہِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى اللہ عليه وسلم، قَالَ: اِنَّ لِلَّهِ مَلائِكَةً سَيَّاحِينَ يُبَلِّغُوْنِي عَنْ أُمَّتِي السَّلامَ قَالَ: وَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صلى اللہ عليه وسلم:حَيَاتِي خَيْرٌ لَكُمْ تُحَدِّثُوْنَ وَنُحَدِّثُ لَكُمْ، وَوَفَاتِي خَيْرٌ لَكُمْ تُعْرَضُ عَلَيَّ اَعْمَالُكُمْ،فَمَا رَأَيْتُ مِنَ خَيْرٍ حَمِدْتُ اللہَ عَلَيْهِ، وَمَا رَأَيْتُ مِنَ شَرٍّ اسْتَغْفَرْتُ اللہَ لَكُمْ

ترجمہ:عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"بیشک اللہ کے کچھ فرشتے زمین میں گھومتے ہیں، جو میری امت کا سلام مجھے پہنچاتے ہیں۔"اور فرمایا:"میری زندگی تمہارے لیے باعثِ خیر ہے: تم مجھ سے بات کرتے ہو اور میں تمہیں (وحی و ہدایت) پہنچاتا ہوں،اور میری وفات بھی تمہارے لیے خیر ہے: تمہارے اعمال میرے سامنے پیش کیے جاتے ہیں؛اگر ان میں خیر دیکھوں تو اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں،اور اگر شر (گناہ) دیکھوں تو تمہارے لیے اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔"

(مسند البزار حدیث نمبر 1925 شائع کردہ مکتبہ العلوم والحکم۔ اس روایت کے صحیح ہونے کا ثبوت کتاب میں آگے آئے گا)۔

ہم بے شمار احادیث پیش کر سکتے ہیں، مگر یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ ہم اس بات کے منکر نہیں کہ انبیاء علیہم السلام بیک وقت قبر میں بھی زندہ ہیں اور برزخ میں بھی۔

لہٰذا ہم سلفی موقف کا جواب انہی کے معتبر شیخ، امام ابن القیم الجوزیہ جو شیخ ابن تیمیہ کے شاگرد ہیں کے کلام سے دیتے ہیں، جنہوں نے فرمایا:

وإنما يغلط أكثر الناس في هٰذا الموضع حيث يعتقد أن الروح من جنس ما يعهد من الأجسام التي إذا شغلت مكاناً لم يمكن أن تكون في غيره، وهذا غلط محض، بل الروح تكون فوق السماوات في أعلى عليين، وترد إلى القبر، فترد السلام، وتعلم بالمسلِّم، وهي في مكانها هناك، وروح رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم في الرفيق الأعلى دائماً، ويردها اللہ سبحانه إلى القبر، فترد السلام على من سلم عليه، وتسمع كلامه، وقد رأى رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم موسى قائماً يصلي في قبره، ورآه في السماء السادسة، والسابعة، فإما أن تكون سريعة الحركة والانتقال كلمح البصر، وإما أن يكون المتصل منها بالقبر وفنائه بمنزلة شعاع الشمس، وحرمها في السماء

ترجمہ: اکثر لوگ اس مقام پر غلطی کرتے ہیں، جب وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ روح بھی اسی نوعیت کی کوئی چیز ہے جیسا کہ عام جسم ہوتے ہیں، جو اگر ایک جگہ ہوں تو دوسری جگہ موجود نہیں ہو سکتے۔یہ محض غلط فہمی ہے۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ روح بلند آسمانوں کے اوپر "اعلیٰ علیین" میں ہوتی ہے، اور ساتھ ہی قبر میں بھی لوٹائی جاتی ہے؛ وہ سلام کرنے والے کو پہچانتی ہے اور اس کا سلام لوٹاتی ہے، حالانکہ وہ اپنے مقام پر ہی موجود ہوتی ہے۔رسول اللہ ﷺ کی روح ہمیشہ ’’رفیق اعلیٰ‘‘ میں ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اس کو قبر میں لوٹاتا ہے تاکہ وہ سلام کرنے والے کا سلام سنیں اور اس کا جواب دیں۔نبی کریم ﷺ نے خود حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کی قبر میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا،اور اسی حضرت موسیٰ کو آسمان ششم اور ہفتم پر بھی دیکھا۔تو یا تو روح کی حرکت اور منتقلی برق رفتاری سے ہوتی ہے، جیسے آنکھ جھپکنے کی دیر،یا پھر روح کا قبر سے تعلق ایسے ہے جیسے سورج کی شعاعیں زمین پر ہوتی ہیں، حالانکہ سورج خود آسمان پر ہوتا ہے۔ (کتاب الروح ابن القیم باب: 15)

یہاں شیخ ابن قیم نے سُنّی چادر اوڑھی اور اس دقیق نظریہ پر صحیح تفصیل بیان کی۔

 ثبوت:6 

انبیاء اب بھی حج کرتے ہیں جیسے زندہ ہوں۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صلى اللہ عليه وسلم مَرَّبِوَادِي الأَزْرَقِ فَقَالَ ‏"‏ اَىُّ وَادٍ هَذَا ‏"‏ ‏۔‏ فَقَالُوا هَذَا وَادِي الأَزْرَقِ ‏۔ ‏ قَالَ ‏"‏ كَأَنِّي اَنْظُرُ اِلَى مُوْسَى - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - هَابِطًا مِنَ الثَّنِيَّةِ وَلَهُ جُؤَارٌ اِلَى اللہِ بِالتَّلْبِيَةِ ‏"‏ ‏۔‏ ثُمَّ اَتَى عَلَى ثَنِيَّةِ هَرْشَى ‏فَقَالَ ‏"‏ اَىُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ ‏"‏۔‏ قَالُوا ثَنِيَّةُ هَرْشَى قَالَ ‏"‏ كَأَنِّي اَنْظُرُ اِلَى يُوْنُسَ بْنِ مَتَّى - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ جَعْدَةٍ عَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ خِطَامُ نَاقَتِهِ خُلْبَةٌ وَهُوَ يُلَبِّي ‏"‏

ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ وادیٔ ازرق سے گزرے تو آپ نے پوچھا: "یہ کون سی وادی ہے؟"لوگوں نے عرض کیا: "یہ وادیٔ ازرق ہے۔"آپ ﷺ نے فرمایا: "گویا میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ اس گھاٹی سے اتر رہے ہیں اور بلند آواز سے لبیک کہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی و زاری کر رہے ہیں۔"پھر آپ ﷺ ثنیۃ ہرشى پر پہنچے تو دریافت فرمایا: "یہ کون سی گھاٹی ہے؟"لوگوں نے عرض کیا: "یہ ہرشى کی گھاٹی ہے۔"آپ ﷺ نے فرمایا: "گویا میں یونس بن متیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں، وہ ایک سرخ رنگ کی گھنگھریالی بالوں والی اونٹنی پر سوار ہیں، ان کے جسم پر اون کا جبہ ہے، ان کی اونٹنی کی نکیل کھجور کی چھال سے بنی ہے، اور وہ لبیک کہتے جا رہے ہیں۔"(صحیح مسلم 420)

اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے امام نووی نے قاضی عیاض کو نقل کیا کہ: 

قال: فإن قيل كيف يحجون ويلبون وهم أموات وهم في الدار الآخرة وليست دار عمل؟ فاعلم أن للمشايخ وفيما ظهر لنا عن هٰذا أجوبة، أحدها: أنهم كالشهداء بل هم أفضل منهم، والشهداء أحياء عند ربهم فلا يبعد أن يحجوا ويصلوا كما ورد في الحديث الآخر

ترجمہ:فرمایا: اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ وہ حج اور تلبیہ کیسے ادا کرتے ہیں، حالانکہ وہ وفات پا چکے ہیں، اور وہ آخرت کی دنیا میں ہیں جو عمل کا مقام نہیں؟تو جان لو کہ مشائخ کرام نے اس بارے میں کئی جوابات دیے ہیں۔جو ہمارے لئے واضح ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ (انبیاء) شہداء کی طرح ہیں، بلکہ ان سے افضل ہیں،اور شہداء اپنے رب کے پاس زندہ ہیں،تو اس میں کچھ بعید نہیں کہ وہ حج کریں اور نماز ادا کریں، جیسا کہ ایک اور حدیث میں وارد ہے۔

(شرح صحیح مسلم امام نووی 2/184 شائع قاہرہ مصر) 

سلفی یہ اعتراض کر سکتے ہیں کہ قاضی عیاض مالکی نے اس حدیث کے بارے میں دیگر احتمالات بھی ذکر کیے ہیں، جن میں ایک یہ بھی ہے کہ یہ واقعہ خواب میں پیش آیا ہو، کیونکہ مذکورہ حدیث بابِ معراج (یعنی رات کے سفر) میں روایت ہوئی ہے۔

تاہم یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اس حدیث کے الفاظِ مبارک خود اس امر کی وضاحت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ سے وادی کے بارے میں براہِ راست سوال فرمایا۔

 لہٰذا اس روایت میں رسول اللہ ﷺ کا رات کے سفر میں صحابہ کے ساتھ ہونا کہیں مذکور نہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ خواب نہیں ہو سکتا۔

مزید برآں، محدثین کا اصول ہے کہ وہ اپنی کتب میں سب سے پہلے سب سے زیادہ مستند روایت ذکر کرتے ہیں۔ لہٰذا یہاں پہلا قول ہی سب سے قوی اور معتبر قرار پاتا ہے۔

امام جلال الدین سیوطی الحاوی للفتاویٰ میں کہتے ہیں: 

ولا يمتنع رؤية ذاته الشريفة بجسده وروحه وذٰلك لأنه صلى اللہ عليه وسلّم ـ وسائر الأنبياء ـ أحياء ردت إليهم أرواحهم بعد ما قبضوا وأذن لهم بالخروج من قبورهم والتصرف في الملكوت العلوي والسفلي، وقد ألف البيهقي جزءاً في حياة الأنبياء، وقال في دلائل النبوة: الأنبياء أحياء عند ربهم كالشهداء؛ وقال في كتاب الإعتقاد: الأنبياء بعد ما قبضوا ردت

ترجمہ:نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس کو جسم اور روح کے ساتھ دیکھنا ناممکن نہیں،کیونکہ رسول اللہ ﷺ اور تمام انبیاء علیہم السلام زندہ ہیں۔ان کی روحیں قبض کیے جانے کے بعد ان کی طرف لوٹا دی گئی ہیں،اور انہیں اپنی قبروں سے باہر آنے اور علوی و سفلی دنیا میں تصرف کی اجازت دی گئی ہے۔امام بیہقی رحمہ اللہ نے "حیات الأنبياء" کے موضوع پر ایک مستقل رسالہ تصنیف کیا،اور اپنی کتاب دلائل النبوة میں فرمایا کہ انبیاء اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں،جس طرح شہداء زندہ ہوتے ہیں۔اور اپنی کتاب الاعتقاد میں ذکر کیا کہ انبیاء کی روحیں وفات کے بعد ان کی طرف لوٹا دی جاتی ہیں۔

(الحاوی للفتاوی امام جلال الدین سیوطی ص، 244 تا 245)

وكل ذلك صحيح لا يخالف بعضه، فقد يرى موسى عليه السلام قائما يصلي في قبره، ثم يسرى بموسى وغيره إلى بيت المقدس كما أسري بنبينا صلى الله عليه وسلم فيراهم فيه ثم يعرج بهم إلى السموات كما عرج بنبينا صلى الله عليه وسلم فيراهم فيها كما أخبر وحلولهم في أوقات بمواضع مختلفات جائز في العقل كما ورد به خبر الصادق، وفي كل ذلك دلالة على حياتهم،

ترجمہ:اور یہ تمام احادیث صحیح ہیں اور آپس میں متضاد نہیں،چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کی قبر میں کھڑے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا گیا،پھر اُنہیں اور دیگر انبیاء کو بیت المقدس لے جایا گیا،جیسا کہ ہمارے نبی ﷺ کو معراج میں لے جایا گیا، اور آپ ﷺ نے وہاں اُنہیں دیکھا۔پھر اُنہیں آسمانوں کی طرف بھی اٹھایا گیا، جیسے ہمارے نبی ﷺ کو عروج دیا گیا، اور آپ ﷺ نے وہاں بھی اُنہیں دیکھا، جیسا کہ حدیث میں وارد ہے۔اور یہ کہ وہ مختلف اوقات میں مختلف جگہوں پر ظاہر ہوں یہ عقلًا ممکن ہے،کیونکہ اس بارے میں صادق (یعنی رسولِ برحق ﷺ) کی خبر موجود ہے۔اور ان تمام واقعات میں انبیاء کی حیات (زندگی) پر واضح دلیل موجود ہے۔

احادیثِ اسراء و معراج قطعی طور پر اس حقیقت کو ثابت کرتی ہیں کہ انبیاء علیہم السلام زندہ ہیں، اور وہ بیک وقت مختلف مقامات پر موجود ہو سکتے ہیں۔

اسی طرح مسند احمد میں ایک طویل حدیث وارد ہے، جو یہ ثابت کرتی ہے کہ مومن کی روح موت کے بعد دوبارہ اس کی قبر میں لوٹا دی جاتی ہے۔

مومن کی روح کے کئی آسمانوں سے گزرنے کی تفصیلی کیفیت بیان کرنے کے بعد، حدیث میں یہ الفاظ آتے ہیں:

 فيقول اللہ عزوجل اكتبوا كتاب عبدي في عليين وأعيدوه إلى الأرض فإني منها خلقتهم وفيها أعيدهم

ترجمہ:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’میرے بندے کا نامۂ اعمال عِلِّیِّیْن میں لکھ دو، اور اسے زمین کی طرف واپس لوٹا دو،کیونکہ میں نے انہیں (انسانوں کو) زمین سے پیدا کیا، اور انہیں اسی میں واپس لوٹاؤں گا۔‘‘

 (مسند احمد ابن حنبل 4/287)

شیخ شعیب الارناؤوط نے اس کو نقل کرنے کے بعد کہا:

 إسناده صحيح رجاله رجال الصحيح

ترجمہ: اس کی سند صحیح ہے اور راوی صحیح کے ہیں۔ 

امام ہیثمی نے اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد کہا کہ اس کی سند صحیح ہے۔

(مجمع الزوائد3/ 50-49)

یہ حدیث اس حقیقت کو ثابت کرتی ہے کہ مومن کی روح زمین کی طرف واپس لوٹتی ہے۔ ہم یہ بات پہلے بھی واضح کر چکے ہیں کہ مومن اپنی قبر پر آنے والوں کی گفتگو سنتا ہے اور انہیں جواب بھی دیتا ہے۔

امام ابو عبد اللہ محمد بن ابوبکر قرطبی لکھتے ہیں:

مِمَّا يَحْصُلُ مِنْ جُمْلَتِهِ ٱلْقَطْعُ بِأَنَّ مَوْتَ ٱلْأَنْبِيَاءِ إِنَّمَا هُوَ رَاجِعٌ إِلَىٰ أَنَّهُمْ غِيبُوا عَنَّا بِحَيْثُ لَا تُدْرِكُهُم، وَإِنْ كَانُوا مَوْجُودِينَ أَحْيَاءً، وَذَٰلِكَ كَٱلْحَالِ فِي ٱلْمَلَائِكَةِ، فَإِنَّهُمْ مَوْجُودُونَ أَحْيَاءٌ، وَلَا يَرَاهُمْ أَحَدٌ مِنْ نَوْعِنَا إِلَّا مَنْ خَصَّهُ ٱللَّهُ بِكَرَامَةٍ مِّنْ أَوْلِيَائِهِ۔

ترجمہ:ان تمام باتوں سے جو نتیجہ نکلتا ہے،یقینا وہ یہ ہے کہ انبیاء کی وفات کا مطلب دراصل صرف یہ ہے کہ وہ ہم سے اوجھل کر دیے گئے ہیں اس طرح کہ ہماری نگاہیں اُن تک رسائی حاصل نہیں کر سکتیں،اگرچہ وہ واقعی موجود اور زندہ ہیں۔اور یہ معاملہ فرشتوں کے حال کی طرح ہے:وہ بھی موجود اور زندہ ہیں،لیکن ہماری جنس (یعنی انسانوں) میں سے کوئی اُنہیں نہیں دیکھتاسوائے اُن لوگوں کے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء میں سے کسی کو کرامت کے طور پر یہ خصوصیت عطا فرمائی ہو۔(التذکرہ 1؍ 264 تا 265)

یاد رکھئے کہ رسول اللہ ﷺ کی ازواجِ مطہرات پر آپ ﷺ کے وصال کے بعد نکاح حرام قرار دیا گیا تھا، اور آپ ﷺ کا کوئی روایتی یا معمول کے مطابق جنازہ بھی ادا نہیں کیا گیا۔

 یہ دونوں امور اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ آپ ﷺ اپنی قبرِ مبارک میں زندہ ہیں۔امام سبکی لکھتے ہیں:

 

یہ ہمارے عقیدے میں سے ہے کہ انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہیں۔

 (طبقات الشافعیہ الکبریٰ 6/266)

ایک بڑے حنفی فقیہ ابن عابدین کہتے ہیں: 

الأنبياء أحياء في قبورهم كما ورد في الحديث

ترجمہ:انبیاء علیہم السلام اپنی قبور میں زندہ ہیں، جیسا کہ حدیث میں وارد ہے۔

(رسائل ابن عابدین 2/203)

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ السَّخَاوِیُّ الشَّافِعِیُّ:وَنَحْنُ نُؤْمِنُ وَنُصَدِّقُ بِاَنَّہٗ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَیٌّ یُرْزَقُ فِیْ قَبْرِہٖ وَاَنَّ جَسَدَہُ الشَّرِیْفَ لَا تَاکُلُہُ الْاَرْضُ، وَالْاِجْمَاعُ عَلٰی ھٰذَا۔

ترجمہ:امام حافظ محمد بن عبدالرحمٰن السخاوی الشافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:"ہم اس پر ایمان رکھتے اور تصدیق کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی قبرِ مبارک میں زندہ ہیں اور رزق دیے جاتے ہیں،اور آپ کا مقدس جسم زمین نہیں کھا سکتی،اور اس عقیدے پر اجماع ہے۔"(القول البدیع صفحہ 335)

وَنَقَلَ السُّبْكِيُّ فِي طَبَقَاتِهِ عَنِ ابْنِ فُورَكٍ (بِضَمٍّ فَسُكُونٍ): "إِنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَيٌّ فِي قَبْرِهِ، رَسُولُ اللَّهِ أَبَدَ الآبَادِ"، أَيْ: فِي جَمِيعِ الأَزْمِنَةِ، الصَّادِقُ بِمَا بَعْدَ مَوْتِهِ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ، عَلَى الْحَقِيقَةِ لَا الْمَجَازِ، لِحَيَاتِهِ فِي قَبْرِهِ، يُصَلِّي فِيهِ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ. قَالَ ابْنُ عَقِيلٍ الْحَنْبَلِيُّ: "وَيُضَاجِعُ أَزْوَاجَهُ، وَيَسْتَمْتِعُ بِهِنَّ أَكْمَلَ مِنَ الدُّنْيَا، وَحَلَفَ عَلَى ذَلِكَ، وَهُوَ ظَاهِرٌ..."

ترجمہ:امام سبکی نے اپنی "طبقات" میں امام ابن فورک (بضم فاء سکون واؤ) سے نقل کیا ہے کہ:"بے شک نبی اکرم ﷺ اپنی قبر میں زندہ ہیں، اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اللہ کے رسول ہیں۔"یعنی: تمام زمانوں میں، آپ ﷺ اپنی وفات کے بعد سے قیامت تک، حقیقتاً رسول ہیں، نہ کہ مجازاً، کیونکہ آپ ﷺ اپنی قبر میں زندہ ہیں، اور وہاں اذان اور اقامت کے ساتھ نماز ادا فرماتے ہیں۔ابن عقیل حنبلی رحمہ اللہ نے کہا: "رسول اللہ ﷺ اپنی ازواج کے ساتھ خلوت فرماتے ہیں اور ان سے دنیا کی زندگی سے بھی بڑھ کر لطف اندوز ہوتے ہیں۔"ابن عقیل نے اس پر قسم کھائی، اور یہ بات ظاہر ہے( اور اس میں کوئی مانع (رکاوٹ) نہیں)۔

(شرح الزرقانی علی مواہب الدنیہ امام قسطلانی جلد 8 صفحہ 358)

امام بدرالدین عینی نے کہا: 

من أنكر الحياة في القبر وهم المعتزلة ومن نحا نحوهم وأجاب أهل السنة عن ذٰلك

ترجمہ: "جنہوں نے قبر کی زندگی کا انکار کیا، وہ معتزلہ ہیں اور ان کے ہم خیال لوگ، اور اہلِ سنت نے اس انکار کا جواب دیا۔"

(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری 8/601)

 امام السمہودی کہتے ہیں: 

لاشك في حياته - صلى اللہ عليه وسلم - بعد وفاته وكذا سائر الأنبياء - عليهم الصلاة والسلام - احياء في قبورهم اكمل من حياة الشهداء التي اخبر اللہ تعالى بها في كتابه العزيز 

ترجمہ:اس میں کوئی شک نہیں کہ رسول اللہ ﷺ وفات کے بعد بھی زندہ ہیں،اور تمام انبیاء علیہم السلام بھی اپنی قبروں میں زندہ ہیں،اور ان کی یہ زندگی اس زندگی سے زیادہ کامل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے کلامِ مجید میں شہداء کے لیے بیان فرمائی ہے۔ (وفاء الوفاء 4/1352)

امام عبدالوہاب الشعرانی کہتے ہیں:

 قد صحت الأحاديث انه - صلى اللہ عليه وسلم - حي في قبره يصلي بأذان واقامة 

ترجمہ:یہ متعدد صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی قبرِ مبارک میں زندہ ہیں،اور وہاں اذان و اقامت کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں۔

(المنیح المِنَّۃ صفحہ 92)

امام تاج الدین سبکی نے کہا: 

عن أنس قال قال رسول اللہ الأنبياء أحياء فى قبورهم يصلون۔ فإذا ثبت أن نبينا حى فالحى لابد من أن يكون إما عالما أو جاهلا ولا يجوز أن يكون النبي جاهلا

ترجمہ:انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہوتے ہیں، اور نماز پڑھتے ہیں۔"پس جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ ہمارے نبی ﷺ زندہ ہیں،تو زندہ شخص یا تو عالم ہوتا ہے یا جاہل،اور نبی کے لیے جاہل ہونا جائز نہیں۔

(طبقات الشافعیہ الکبریٰ 3/411)

انہوں نے یہ بھی کہا:

لان عندنا رسول اللہ - صلى اللہ عليه وسلم - حي يحس ويعلم وتعرض عليه اعمال الأمة ويبلغ الصلاة والسلام على ما بينا

ترجمہ:کیونکہ ہمارے نزدیک رسول اللہ ﷺ زندہ ہیں، وہ محسوس کرتے ہیں اور جانتے ہیں،امت کے اعمال ان کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں،اور ان پر درود و سلام پہنچایا جاتا ہے،جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔

 (اوپر دئیے گئے حوالے کے مطابق 3/412)

شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے کہا: 

يقول حياة الأنبياء متفق عليه آست ھیچ کس را دروى خلافي نيست 

ترجمہ:"انبیاء علیہم السلام کی زندگی (قبروں میں) کے مسئلے پر اجماع ہے، اور اس میں کسی کا اختلاف منقول نہیں۔" (اشِعّۃ اللمعات 1/613)۔ 

سلفی عالم قاضی شوکانی کہتے ہیں:

 وَ وَرَدَ النَّصّ فِي كِتَابِ اللہِ فِي حَقّ الشُّهَدَاءِ اَنَّهُمْ اَحْيَاء يُرْزَقُوْنَ وَأَنَّ الْحَيَاة فِيهِمْ مُتَعَلِّقَة بِالْجَسَدِ فَكَيْف بِالْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ۔ وَقَدْ ثَبَتَ فِي الْحَدِيثِ { اَنَّ الْأَنْبِيَاءَ اَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ } رَوَاهُ الْمُنْذِرِيُّ وَصَحَّحَهُ الْبَيْهَقِيُّ۔ وَفِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: { مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي بِمُوْسَى عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ

ترجمہ:شہداء کے بارے میں اللہ کی کتاب (قرآن کریم) میں نصِ صریح وارد ہوئی ہے کہ"وہ زندہ ہیں اور انہیں رزق دیا جاتا ہے" (آل عمران: 169)اور یہ کہ ان کی زندگی جسم کے ساتھ مربوط (جسمانی زندگی) ہے تو پھر انبیاء اور مرسلین کی زندگی کا مقام کیا ہوگا!؟نیز، حدیث سے بھی یہ بات ثابت ہے کہ:"بیشک انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہوتے ہیں"اس حدیث کو امام منذری نے روایت کیا ہے، اور امام بیہقی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔اور صحیح مسلم میں نبی اکرم ﷺ کا یہ ارشاد موجود ہے:"معراج کی رات میں سرخ ٹیلے کے پاس سے گزرا،اور وہاں میں نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھاوہ اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔"(نیل الاوطار الشوکانی 3/302)

"ہم ‘حیاتُ الانبیاء’ اور ‘سماعِ الموتیٰ’ کے مسائل کو تفصیل کے ساتھ بیان کر چکے ہیں۔

 جب سماعِ الموتیٰ کا مسئلہ واضح ہو جائے، تو توسل اور استغاثہ کا جواز نہ صرف منطقی طور پر سو فیصد ثابت ہو جاتا ہے، بلکہ یہ پہلے ہی قرآن و حدیث کے عین مطابق ہے۔"