منصبِ امامت؛ سیرت نبویؐہ کی روشنی میں - پارٹ 1

مسلمانوں کی عملی زندگی میں سب سے زیادہ اور عبادات میں سے اہم اور مسلسل ادا کی جانے والی عبادت نماز ہے۔ اس لحاظ سے مسلمانوں کو اپنی عبادات میں بہت زیادہ واسطہ ائمہ کرام سے رہتا ہے۔ کیونکہ ان کی اقتدا میں نماز پڑھی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں ہم نے بچے کے کان میں اذان، پھر نکاح اور نمازِ جنازہ بھی ائمہ کے سپرد کیا ہوا ہے۔ جس قدر ائمہ کرام کی ضرورت زیادہ ہے، اسی قدر ائمہ اور ان کے نمازیوں میں فاصلے بھی زیادہ ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ دونوں ہی ایک دوسرے سے شکایت کناں رہتے ہیں۔ نماز لمبی یا چھوٹی ہونے، نمازوں کے اوقات بدلنے ، مسجد کی صفائی اور انتظام کے معاملات اور نماز کے اندر پیش آجانے والے مسائل میں شکر رنجیاں ہو ہی جاتی ہیں۔ اور بعض اوقات یہ بہت طول پکڑ لیتی ہیں، چنانچہ ان کے تصفیے کے ساتھ ساتھ اخلاص، للہیت اور بے لوث خدمت کی بھی ضرورت ہے اور امام کے مقام ومرتبہ سے شناسائی بھی ضروری ہے۔

ایک مضمون میں تمام معاملات کے تجزیے کی تو شاید گنجائش نہیں، مگر رسولِ اکرمﷺ کی اس حیثیت کو پیش کرکے عوام اور ائمہ کی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا جاسکتا ہے تاکہ ان ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہو کر دونوں میں فاصلے اور دوریاں کم کی جائیں۔

نبی کریمﷺکی امامت

جب سے نماز کا آغاز ہوا، نبی کریمﷺنے زندگی کے آخری لمحات تک چند نمازوں کے سوا تمام نمازوں کی امامت خود فرمائی۔ اِکّا دُکّا واقعات ہیں جس میں آپ مقتدی بنے۔ اس کے باوجود آپ جس طرح امامت کی خوبیوں سے آگاہ کرتے تھے، ویسے ہی نمازیوں کی ضروریات کا بھی خیال رکھتے تھے۔ آپﷺمقتدی حضرات کی ضروریات و احساسات سے بھی آشنا تھے۔

آپﷺنے فرض نمازوں کی سفر اور حضر دونوں حالتوں میں امامت بھی کرائی، جنازے بھی پڑھائے، نمازِ تراویح بھی پڑھائی، نمازِ عید بھی پڑھاتے تھے، نمازِ استسقابھی پڑھائی اور نماِز کسوف اور خسوف یعنی سورج گرہن اور چاند گرہن کی نمازیں بھی پڑھائیں۔ اس طرح آپ نے اُمت کے ائمہ کرام کے لیے بہترین راہ نمائیاں فرمائیں اور مقتدی حضرات کو بھی ائمہ کی عزت اور وقار کا پورا دَرس دیا۔ دونوں کو ان کے حقوق وفرائض سے آشنا کرکے ایک بڑا ہی پاکیزہ اور روحانی رشتہ قائم کر دیا۔

منصبِ امامت کا تعلق چونکہ مقتدی حضرات سے ہے، یعنی مقتدی ہوں گے تو امام ہوں گے۔ اس لیے یہ منصب کسی بھی امام کی محض اپنی قابلیت کے بل بوتے پر نہیں چل سکتا۔ لہٰذا سیرتِ نبویؐہ کی روشنی میں ہم سب مل جل کر امامت اور اقتدا سے جڑے اس رشتے کو قابل رشک بنا سکتے ہیں۔ ذیل میں ایک تسلسل سے امامت کی خوبیوں اور مقتدیوں کی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا جاتا ہے۔

نبیﷺجماعت کروانے کے لیے کب آتے تھے؟

نبی کریمﷺمسجد میں عموماً اس وقت تشریف لاتے جب نمازی نفل پڑھ کر بیٹھ جاتے۔ کیونکہ نفل پڑھے بغیر مسجد میں بیٹھنے سے آپﷺنے اُنھیں منع کیا ہوا تھا۔ فرمایا:

«إِذَا دَخَلَ أَحَدُکُمُ الـْمَسْجِدَ فَلاَ یَجْلِسْ حَتَّی یُصَلِّىَ رَکْعَتَیْنِ» [1]

’’تم میں سے جب کوئی مسجد آئے تو بیٹھنے سے پہلے دور رکعات پڑھ لے۔‘‘

اسی لیے آپﷺنے ان کے لیے ایک ضابطہ مقرر فرما دیا تھا کہ «لَا تَقُومُوا حَتّٰی تَرَوْنِي» ’’تم جب تک مجھے (مسجد آتا) دیکھ نہ لو، تب تک (صفوں کی درستگی) کے لیے کھڑے نہ ہوا کرو۔‘‘ نمازیوں سے مسجد بھری ہو اور ایک دم صف بندی کرنی پڑے تو بھگدڑ سی مچ جاتی ہے۔ اس سے بچانے کے لیے آپﷺنے ساتھ یہ بھی فرما دیا: «وَعَلَیْکُمُ السَّکِینَةُ» ’’(مجھے دیکھ کر کھڑے ہونے پر) آہستگی اور سکون کا اہتمام کیا کرو۔‘‘ [2]      

نبی کریمﷺکی حیاتِ مبارکہ کے آخری ایام تھے۔ نمازی مسجد میں جمع تھے۔ اس دوران سیدنا بلال﷜ نے جا کر آپﷺکو نماز کی اطلاع دی تو آپﷺنے فرمایا: «مُرُوا أَبَابَکْرٍ فَلْیُصَلِّ» [3]’’ابوبکر﷜سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔‘‘ اس سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ صحابہ کرام﷢پہلے جمع ہوجاتے تھے اور آپﷺ نماز پڑھانے کے لیے بعد میں آتے تھے۔     

لہٰذا مقتدی حضرات کو چاہیے کہ وہ ائمہ کا انتظار کر لیا کریں۔ اُنھیں بھی مصروفیات یا عوارضات لاحق ہوسکتے ہیں۔ ہمارے ہاں نماز کے وقت سے ایک سیکنڈ بھی اوپر ہو جائے تو بے چارے امام کی خیر نہیں۔ لوگوں کی نظریں کسی اور امام کی تلاش میں لگ جاتی ہیں اور بڑے بڑے پارسا انسانوں کی زبانوں کے بندھن کھل جاتے ہیں۔عہدِ نبوی میں تو صحابہ﷢بعض اوقات جماعت کے انتظار میں بیٹھے بیٹھے سو جایا کرتے تھے۔ [4]اگر کوئی شخص کہے کہ یہ آدابِ امامت نہیں بلکہ آدابِ رسالت تھے تو اپنے موقف کی دلیل اس کے ذمہ ہے۔

رسول اکرمﷺکسی سے محوِ گفتگو ہو جاتے تو؟

کبھی ایسا بھی ہوتا آپﷺتشریف لاتے تو کوئی آپ سے گفتگو کرنے لگ جاتا۔ آپ اس کی بات پوری توجہ سے سنتے، حالانکہ نماز میں تاخیر ہو رہی ہوتی۔ سیدنا انس﷜کہتے ہیں: نماز کی اقامت ہوگئی تھی۔ ایک شخص آپ کے سامنے آگیا اور گفتگو کرنے لگا اور اس نے آپﷺکو نماز پڑھانے سے روکے رکھا۔ [5]اس کی بات لمبی ہوتی گئی حتی کہ صحابہ کرام﷢(بیٹھے بیٹھے) سونے لگے۔ [6]

ہمارے یہاں اپنے آپ کو متبع سنت کہلوانے والوں کی عمومی صورتِ حال یہ ہے کہ اگر امام کسی کے سوال کا جواب دے رہا ہے یا صفیں سیدھی کراتے ہوئے کوئی حدیث سنا رہا ہے یا بالفرض وہ خود بھی گھڑی پر نظریں رکھے ہوئے ہے اور اس کی نظر چند لمحوں کے لیے گھڑی سے ہٹی اور ادھر سے ٹائم ہوگیا تو مسجد کے کسی کونے سے ایک زور دار اور بھدی سی آواز نمودار ہوتی ہے:   ’’ٹائم ہوگیا ہے!!‘‘

اگر آپﷺکو جماعت سے پہلے کوئی ضرورت پیش آجاتی؟

سیدنا ابوہریرہ﷜روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ(مسجد میں) تشریف لائے۔ اقامت ہوچکی تھی اور صفیں برابر ہوچکی تھیں، آپﷺمصلاے امامت پر تشریف لاچکے تھے، ہم تکبیر کے انتظار میں تھے کہ آپ یہ فرماتے ہوئے کہ ’’اپنی اپنی جگہ ٹھہرو۔‘‘ واپس تشریف لے گئے۔ اس دوران ہم اپنی اسی حالت پر رہے، پھر آپﷺہماری طرف آئے تو آپ نے غسل کیا ہوا تھا اور آپ کے سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ [7]

صفیں سیدھی کرانے کا اہتمام

رسول اکرمﷺصفوں کو سیدھا کرانے اور فاصلے ختم کرانے کا پورا اہتمام کرتے تھے۔ اس سلسلے میں آپ فرماتے:

«سَوُّوا صُفُوفَکُمْ فَإِنَّ تَسْوِیَةَ الصُّفُوفِ مِنْ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ.» [8]

’’اپنی صفوں کو برابر کر لو کیونکہ صفوں کی برابری قیامِ نماز کا حصہ ہے۔ ‘‘

یہ تو فرمان ہے، صفوں کی برابری کے حوالے سے جس پر سبھی متفق ہیں مگر دوسری احادیث میں فاصلوں کو ختم کرنے کی اور آپس میں ملنے کی واضح تعلیمات ہیں، حدیث ہے:

«أَقِیمُوا صُفُوفَکُمْ وَتَرَاصُّوا.» [9]

’’ صفیں سیدھی کر لو اور آپس میں بالکل مل جاؤ۔ ‘‘  

اس موضوع پر اس سے بھی زیادہ واضح فرمانِ نبوی ثابت ہے:

«حَاذُوا بَیْنَ الْـمَنَاکِبِ، وَسُدُّوا الْخَلَلَ وَلَا تَذَرُوا فُرُجَاتِ الشَّیْطَانِ، وَمَنْ وَصَلَ صَفًّا وَصَلَهُ اللهُ.» [10]

’’اپنے کندھوں کو ایک دوسرے کے کندھے کے برابر کرلو۔ خلا (فاصلے) ختم کرلو اور شیطان کی درزیں نہ چھوڑو۔ اور جس نے صف ملائی اللّٰہ اسے بھی ملائے گا۔ ‘‘

سیدنا انس﷜کہتے ہیں: ’’ہم میں سے ایک اپنے کندھے کو دوسرے کے کندھے سے ملاتا تھا اور اپنے پاؤں کو دوسرے کے پاؤں کے ساتھ۔‘‘ [11]

نبی کریمﷺکی نمازوں کا اندازاً دورانیہ؟

رسول اکرمﷺکا فرمان ہے: «إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِیُؤْتَمَّ بِهِ....» [12]

’’امام اس لیے مقرر کیا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے...‘‘

یہ حدیثِ مبارکہ امام کی اہمیت بتانے کو کافی ہے۔اور آپﷺ کی امامت کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

امام کی خصوصیات اور تقرر

سیرت اور سنت کے مطالعے سے ہمیں ائمہ کرام کی خصوصیات کا بھی اندازہ ہوتا ہے، ان میں سے کچھ خصوصیات یہ ہیں:

1.     قرآن مجید زیادہ سے زیادہ یاد ہو: نماز میں تلاوت ہی وہ ظاہری خوبی ہے جو مقتدی حضرات سے امام کو ممتاز کرتی ہے۔ باقی رہا امام کا ورع، تقویٰ، خلوص اور تعلق باللّٰہ یہ سب معنوی خوبیاں ہیں۔ آپﷺنے اسی لیے سب سے پہلے اسی بات کا تذکرہ فرمایا کہ امامت وہ کرائے: «أَقْرَئُهُمْ لِکِتَابِ اللهِ...» [13]

’’جو ان سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والا ہو۔اور اگر قراء ت میں برابر ہوں تو سنت کو زیادہ جاننے والا امامت کرائے، اگر اس میں بھی برابر ہوں تو ہجرت میں پہل کرنے والا اور اگر اس میں بھی برابر ہوں تو امامت وہ کرائے جوان میں سے عمر میں بڑا ہے۔‘‘    

جو شخص قرآن مجید زیادہ پڑھنے والا ہوگا، اسے اسی قدر اَزبر بھی ہوگا اور وہ اس کی قراء ت میں ماہر ہوگا۔ اور سب سے پہلا حق اسی کا ہے۔فرمانِ نبوی «أَقْرَأُهُمْ» ’’ان سب سے زیادہ پڑھنے والا‘‘ سے مراد قراء ت ہی ہے، اور اس کے علوم اور تفسیر جاننا مراد نہیں کیونکہ آپﷺ نے اس حدیث میں قرآن مجید کے لیے «أَقْرَأُهُمْ» اور شرعی علم کے لیے «أَعْلَمُهُمْ» کے دو علیحدہ علیحدہ لفظ استعمال کیے ہیں اور دونوں کے معانی میں فرق موجود ہے۔

اس حدیث میں مذکور آخری نکتہ سے یہ بات بھی سمجھ آتی ہے کہ امامت کے منصب میں قراءت کے ساتھ عمر میں بڑے ہونے کی بھی ایک معتبر اہمیت ہے، کیونکہ بڑی عمر کی وجہ سے ان کا احترام ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حفظِ قرآن و قراء ت میں دو ائمہ کے نام سامنے آرہے ہیں تو انھیں ترجیح دی جائے جو عمر میں بڑے ہیں۔ لیکن اگر بڑے تو موجود ہیں مگر قرآن میں مہارت تو دور کی بات، اچھے طریقے سے پڑھنا بھی نہیں جانتے تو پھر چھوٹی عمر کے قرآن مجید کے حافظ یا قاری کو ترجیح دی جائے گی۔ جیسا کہ عہدِ نبوی میں عمرو بن سلمہ﷜ چھوٹی سی عمر میں منصبِ امامت پر فائز تھے کیونکہ اُنھوں نے آنے والے مہاجرین صحابہ﷢سے سورتیں یاد کر رکھی تھیں۔ [14]  

2.     قراء ت سکون سے ٹھہر ٹھہر کر کرے: نبیﷺ کی زوجہ محترمہ اُمّ سلمہؓ روایت کرتی ہیں کہ آپﷺ کی قراء ت لمبی لمبی ہوتی تھی۔ ایک ایک آیت کرکے پڑھتے تھے، پھر اُنھوں نے باقاعدہ تلاوت کرکے دکھائی۔ چنانچہ ائمہ کرام کے لیے یہ سنّت ٹھہری کہ وہ ایک ایک سانس میں 5،5 آیات پڑھنے کی بجائے ایک ایک آیت کو علیحدہ علیحدہ پڑھیں۔

3.     امام حوصلہ مند ہو: ایک امام کا واسطہ مختلف ذہن اور طرز و اَدا کے لوگوں سے رہتا ہے۔ کسی کے لہجے میں ترشی، کسی کے انداز میں درشتی، کوئی اعلیٰ اقدار کا حامل، کسی کو بولنے کا سلیقہ نہیں اور کوئی مسئلے پوچھ کر امام کو نیچا دکھانے کا آرزو مند۔ ان مختلف قسم کے لوگوں کو ڈیل کرنا، کڑوی کسیلی باتیں سننا یہ ائمہ کی ذمہ داری ہے۔ اس لیے اُنھیں چاہیے کہ اس کام کے لیے پہاڑوں جتنا حوصلہ پیدا کریں۔

ایک دیہاتی معلّم انسانیتﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ میں درشت لہجے میں بات کروں گا،آپﷺ محسوس نہیں فرماتے ۔اسی طرح ایک دیہاتی شخص مسجدِ نبوی میں پیشاب کرنے لگ جاتا ہے۔ صحابہ ﷢ اسے روکنے کے لیے اس کی طرف بڑھتے ہیں۔ لیکن آپﷺبڑے حوصلے سے فرماتے ہیں:

«لَا تَزْرِمُوهُ، دَعُوهُ.»      ’’اس کو پیشاب سے نہ روکو،کر لینے دو۔‘‘

صحابہ﷢اسے پیشاب کرنے دیتے ہیں۔ پھر آپﷺپیشاب کرنے والے دیہاتی کو پاس بلاتے ہیں اور نصیحت فرماتے ہیں:

«إِنَّ هٰذِهِ الْـمَسَاجِدَ لاَ تَصْلُحُ لِشَیْئٍ مِنْ هٰذَا الْبَوْلِ وَلاَ الْقَذَرِ، إِنَّمَا هِیَ لِذِکْرِ اللهِ عَزَّوَجَلَّ وَالصَّلاَةِ وَقِرَاءةِ الْقُرْآنِ.» [15]

’’بے شک یہ مساجد ہیں۔ ان میں پیشاب یا گندگی وغیرہ درست نہیں۔ یہ تو اللّٰہ عزوجل کے ذکر، نماز اور قرآن کی تلاوت کے لیے ہیں۔‘‘

پھر آپﷺکسی شخص سے پانی منگواتے ہیں۔ وہ ڈول میں پانی لاتا ہے۔ آپﷺ پیشاب والی جگہ پر پانی بہا دیتے ہیں۔ ہمارے اس ماحول میں جہاں مقتدی حضرات خوبیوں سے محروم ہیں، وہاں ائمہ بھی بہت سی خوبیوں سے تہی دست ہیں۔ اگر کسی مقتدی سے غلطی سے بھی کچھ سرزد ہو جائے، مثلاً: وہ موبائل كو ’خاموش‘ کرنا بھول گیا ہے اور وہ نماز میں بجنے لگ گیا ہے تو ائمہ کو تمام نمازیوں کے سامنے اس کی تذلیل کا جواز مل جاتا ہے۔ اور زجر وتوبیخ حسبِ طبیعت یا حسبِ مخاطب کم زیادہ ہوسکتی ہے۔ اگرچہ سارے ائمہ ایسے نہیں ہوتے۔

4.    امام جلد باز نہ ہو: اگر امام جلد بازی کرے، کسی کو فوراً جواب دے یا فوری ردّ عمل کا اظہار لے تو اس سے اس کی اپنی ساکھ متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ کیونکہ جلد بازی کے اکثر فیصلے یا اقدامات درست نہیں ہوتے۔ نبی کریمﷺ نے نماز پڑھائی اور دو رکعت کے بعد سلام پھیر دیا۔ ایک صحابی جن کا لقب ذو الیدین تھا، انھوں نے آپﷺ سے عرض کی: «أَنَسِیتَ أَمْ قُصِرَتِ الصَّلَاةُ؟»

یا تو آپ بھول گئے ہیں یاپھر نماز میں کمی ہوگئی ہے؟

آپﷺنے اسے کچھ کہنے کی بجائے یہ اظہار فرمایا: «لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَر»

’’نہ تو میں بھولا ہوں اور نہ نماز میں کمی ہوئی ہے۔‘‘

پھر آپﷺنے عمومی رائے لیتے ہوئے پوچھا: «أَکَمَا قَالَ ذُوالْیَدَیْنِ؟»

’’کیا بات اسی طرح ہے جس طرح ذُوالیدین کہہ رہے ہیں؟‘‘

صحابہ نے جواب دیا: جی ہاں! تو پھر آپﷺ آگے ہوئے اور جو حصہ رہ گیا تھا وہ پڑھایا، پھر سلام پھیرا۔ پھر دوسجدۂ سہو کیے اور سلام پھیر دیا۔ ‘‘ [16]    

قارئین! نبیﷺ کو یہ یقین تھا کہ میں نے پوری نماز پڑھائی ہے، اسی لیے تو آپ نے فرمایا: ’’نہ تو میں بھولا ہوں، نہ نماز میں کمی ہوئی ہے۔‘‘ اس کے باوجود ذوالیدین کی یاد دہانی کے بعد اس پر کوئی حکم نہیں لگایا، بلکہ مذکورہ بات ہی کہی۔ اور پھر دیگر صحابہ سے تصدیق کرائی اور ان کی تصدیق کے بعد نماز پڑھائی۔ اس واقعے میں جلد بازی کا یا بغیر سوچے سمجھے کسی اقدام، حکم یا زجر و توبیخ کا شائبہ تک نظر نہیں آیا۔ یہی خوبی کسی امام کے وقار کی ایک بڑی وجہ بن سکتی ہے۔

e     امام کاطرزِ تکلّم اچھا ہو: مقتدی حضرات کو کوئی بات سمجھانے کے لیے بہتر سے بہتر طرزِ تکلّم اور عمدہ اُسلوب اختیار کیا جائے۔ بعض اوقات انسان ضد کی وجہ سے اپنے فائدے کی بات بھی ٹھکرا دیتا ہے۔ سیدنا ابوبکرہؓ نماز کے لیے آئے۔ اس وقت آپﷺ نماز پڑھا رہے تھے اور رکوع کی حالت میں تھے۔ ابوبکرہؓ نے صف میں شامل ہونے سے پہلے ہی رکوع کر دیا، پھر (حالت نماز ہی میں) چل کر صف میں شامل ہوئے۔ نبی کریمﷺ نے نماز مکمل کی تو فرمانے لگے:

«أَیُّکُمُ الَّذِي رَکَعَ دُونَ الصَّفِّ ثُمَّ مَشٰی إِلىٰ الصَّفِّ.»

’’آپ لوگوں میں سے کس نے صف میں شامل ہونے سے پہلے ہی رکوع کر لیا تھا اور پھر بعد میں صف میں آملا تھا؟‘‘

ابوبکرہؓ کہنے لگے: میں نے۔ تو فرمایا:      «زَادَكَ اللهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ . »[17]

’’اللّٰہ نیکی پر تمہاری حرص میں اضافہ فرمائے ،آئندہ ایسا نہ کرنا۔‘‘

غلطی ہو بھی جائے تو اس کی اصلاح کے لیے اچھا طرزِ تکلّم اپنایا جائے۔

6.     امام حساس اور ہمدردی کے جذبات سے متصف ہو:امام کو دیگر اوصاف کے ساتھ ساتھ حساس اور ہمدردی سے متصف ہونا چاہیے۔ وہ امام ہی کیا جو اپنے مقتدیوں کے جذبات و احساسات ہی سے نا آشنا ہو۔ دیکھیے رسولِ اکرمﷺ سے زیادہ قراء ت میں تاثیر اور خوش الحانی کسے ودیعت ہوسکتی تھی، اس کے باوجود آپﷺ نمازیوں کا خیال رکھا کرتے تھے۔

سیدنا عثمان بن ابی العاص﷜ نے آپﷺ سے عرض کیا کہ مجھے اپنی قوم کا امام مقرر فرما دیں۔ آپﷺ نے فرمایا: «أَنْتَ إِمَامُهُمْ» ’’تم ان کے امام ہو۔‘‘ اور ساتھ ہی مقتدیوں کا خیال رکھنے کی تلقین فرما دی:« وَاقْتَدِ بِأَضْعَفِهِم»[18] ’’اور ان میں سے سب سے کمزور کی اقتدا کرنا (خیال رکھنا)۔‘‘

گویا ایک طرف امام مقتدیوں کی امامت کرا رہا ہے، دوسری طرف وہ مقتدیوں میں سے کمزور ترین مقتدی کا احساس دل میں لیے ہوئے اس کی اقتدا کر رہا ہے۔ یہ ہیں تعلیماتِ نبویہ!

نبی کریمﷺ کے عہد میں ایک واقعہ پیش آیا۔ ایک شخص اپنی پانی بھرنے والی اونٹنیاں لے کر اُس مسجد کے باہر پہنچا جہاں سیدنا معاذ بن جبل﷜عشاء کی نماز پڑھایا کرتے تھے۔ وہ جب پہنچا تو سیدنا معاذ﷜ نماز پڑھانے ہی لگے تھے۔ وہ آگے بڑھا (ان کی اقتدا میں نماز شروع کی) تو سیدنا معاذ﷜ نے سورۂ بقرہ یا نساء کی قراءت شروع کر دی۔ اس شخص نے جماعت سے علیحدہ ہو کر اپنی نماز پڑھی اور چلا آیا۔ اسے خدشہ تھا کہ سیدنا معاذ بن جبل﷜اس سے ناراض ہوں گے کیونکہ اسے اس کی اطلاع مل چکی تھی۔ وہ آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سیدنا معاذ﷜ کی شکایت کرنے لگا، آپﷺ نے فرمایا:

«یَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ أَنْتَ ــ أَوْ فَاتِنٌ ثَلاَثَ مِرَارٍــ فَلَوْلاَ صَلَّیْتَ بِـ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى، وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا، وَ الَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى، فَإِنَّهُ یُصَلِّی وَرَائَكَ الْکَبِیرُ، وَالضَّعِیفُ وَذُو الْحَاجَة.»[19]

’’اے معاذ! کیا تم فتنہ پرور بننا چاہتے ہو، یا آپ نے فرمایا: فتنہ ڈالنے والے بننا چاہتے ہو۔ یہ آپﷺنے تین مرتبہ فرمایا۔ پھر فرمانے لگے: تم نے سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى، وَ الشَّمْسِ وَضُحٰىهَا، وَ الَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى (کی تلاوت کرکے) نماز کیوں نہ پڑھا دی؟ کیونکہ تمہارے پیچھے عمر رسیدہ، کمزور اور ضرورت مند لوگ بھی نماز پڑھتے ہیں۔‘‘        

یاد رہے! سیدنا معاذ بن جبل﷜ بہترین قاری تھے اور زبانِ نبوت سے یہ تلقین تھی کہ ان سے قرآن مجید کی قراء ت سیکھی جائے۔ [20]

واضح ہوا کہ مقتدیوں کا خیال رکھنا امام کی ذمہ داری ہے،لیکن یہ احتیاط فرض نمازوں میں ہے۔ نفل نماز میں، یعنی رمضان کے قیام میں آپﷺ نے طویل قراء ت بھی فرمائی۔ حتی کہ صحابہ﷢ کو سحری نکل جانے کا خدشہ لاحق ہوگیا۔ [21]

اسی طرح اپنی تہجد کی نماز میں بھی سورۂ بقرہ، آلِ عمران اور نساء بھی ایک رکعت میں پڑھ جایا کرتے تھے۔ یہ بات اُمت کو سیدنا حذیفہ﷜نے بتائی، وہ کہتے ہیں: ’’میں نے ایک رات نبیﷺ کی اقتدا میں نماز پڑھی تو آپﷺنے سورۂ بقرہ شروع کر دی۔ میں نے دل میں کہا: آپﷺ سورۂ بقرہ کی 100 آیات پڑھیں گے اور رکوع کریں گے مگر آپ پڑھتے ہی گئے۔ میں نے پھر دل میں کہا: (شاید) سورۂ بقرہ پڑھ کر رکوع کریں گے، مگر آپ نے قراء ت جاری رکھی، پھر آپﷺنے سورۂ نساء کی تلاوت فرمائی پھر سورۂ آل عمران کی تلاوت کی۔ آپ ٹھہر ٹھہر کر پڑھ رہے تھے، جب کسی تسبیح والی آیت کی تلاوت فرماتے تو تسبیح پڑھتے، جب کسی سوال کا ذکر آتا تو اللّٰہ سے سوال کرتے، اور پناہ مانگنے کا ذکر آتا تو پناہ مانگتے پھر آپﷺ نے رکوع کیا اور اس میں سبحٰن ربي العظیم پڑھا۔ آپ کا رکوع بھی کم و بیش قیام جتنا تھا، پھر رکوع سے اُٹھے تو خاصی دیر کھڑے رہے اور یہ قومہ بھی تقریبا رکوع کے برابر تھا، پھر سجدہ کیا اور اس میں سبحٰن ربي الأعلىٰ پڑھا اور سجدہ بھی کم و بیش قیام جتنا ہی تھا۔‘‘ [22]

لیکن نبی ﷺ فرض نماز میں دوسرے ائمہ کو مختصر نماز پڑھانے کی تلقین کرتے تھے اور خود بھی مختصر نماز ہی پڑھاتے تھے جیسا کہ سیدنا انس﷜ کہتے ہیں: ’’نبیﷺ بڑی ہلکی مگر پوری نماز پڑھایا کرتے تھے۔‘‘ [23]         

نبی کریمﷺ سے زیادہ پُر اثر اور خوبصورت قراء ت کس کی ہوسکتی تھی؟ اس کے باوجود آپﷺ نے نمازیوں کا خیال رکھا تو ائمہ کو بھی ان کا خیال رکھنا چاہیے۔ اور ہمدردی کے ان جذبات کو شب و روز کے تمام مسائل میں پھیلا دینا چاہیے۔ کیونکہ آپﷺ کا ارشاد ہے: «إِنَّکُمْ بُعِثْتُمْ مُیَسِّرِینَ .»[24]

’’تمھیں آسانیاں کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ ‘‘[25]

7.    امام یا خطیب داروغہ بننے کی کوشش نہ کریں: اپنی منصبی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ائمہ کرام یا خطبائے عظام داروغے نہ بنیں کہ زبردستی کسی سے نیکی کا کام کروائیں۔جمعہ پڑھانے کے بعد جب بھی نمازِ جمعہ کی پہلی رکعت میں سورۂ اعلیٰ کا یہ حصہ ﴿فَذَكِّر إِن نَفَعَتِ الذِّكرى ﴿٩﴾ سَيَذَّكَّرُ مَن يَخشى ﴿١٠﴾ وَيَتَجَنَّبُهَا الأَشقَى ﴿١١﴾ ’’نصیحت کریں اگر نصیحت فائدہ دے۔ وہ ضرور نصیحت حاصل کرے گا جس میں ڈر ہوگا اور بدبخت اس سے کنارہ کش رہے گا۔‘‘ پڑھیں اور دوسری رکعت میں سورۂ غاشیہ کی آیت ﴿ لَستَ عَلَيهِم بِمُصَيطِرٍ ﴿٢٢﴾ ’’آپ ان پر داروغہ نہیں ہیں۔‘‘ پر پہنچیں تو یہ آیات حوصلے اور ہمت میں اضافے کا باعث بنیں۔ کہ زبردستی کسی سے کام نہیں کرانا، بس دعوت دینی ہے۔ نبیﷺ کی طرف سے جمعے کی نماز میں ان سورتوں کے انتخاب کی ایک حکمت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ہفتے بعد ائمہ کو یہ بات یاد کرادی جائے کہ تم ان پر داروغے نہیں ہو۔

8.     بروقت نماز کا اہتمام امام کی ذمہ داری ہے:عہدِ نبوی میں اور اس کے بعد بھی بہت لمبے عرصے تک لوگ سورج اور اس کے سایوں سے نمازوں کے اوقات کا پتہ چلاتے تھے یا مؤذن کی اذان سن کر مسجد کی طرف آتے تھے۔ اُس دور میں وقت اوپر نیچے ہوجانا بعید نہیں تھا۔ اب چونکہ باہمی مشاورت سے وقت طے ہو جاتا ہے، نیز دور بھی بڑی تیزی کا ہے۔ ہر شخص بہت سی مصروفیات میں گھرا ہوا ہے اور منٹ منٹ کا شیڈول رکھتا ہے، اس لیے ائمہ کرام کو طے شدہ اوقات میں بروقت نماز کرانی چاہیے۔ اسے کوئی پابندی یا دباؤنہ سمجھا جائے، بلکہ یہ دیکھا جائے کہ اگر گھڑیاں نہ ہونے کے باوجود ہمارے سلف صالحین نماز کا بروقت اہتمام کرتے تھے تو گھڑیوں کی موجودگی میں ہم تاخیر کیوں کریں۔

رسول اکرمﷺ کے بارے میں اُمّ المومنین عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ

’’آپ نے وفات تک دو نمازیں بھی آخری وقت میں نہیں پڑھائیں۔ ‘‘[26]

وقت کی پابندی کی یہ ایک بہت بڑی مثال ہے، حالانکہ آپﷺ پر ایک ہی وقت میں کئی مصروفیات اور اہم ترین ذمہ داریاں تھیں۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ جن ائمہ کرام کی 24گھنٹے میں ذمہ داری محض یہی ہے کہ وہ پانچ نمازیں پڑھا دیں تو وہ لیٹ ہو جاتے ہیں۔ پھر مقتدی حضرات خصوصاً انتظامیہ کو غصہ کیوں نہ آئے۔

9.    نماز کے بعد نمازیوں سے بات چیت اور مصلاے امامت پر جاگزیں ہونا: ائمہ اور مقتدی حضرات کے درمیان فاصلوں کی وجہ ایک دوسرے کو وقت نہ دینا بھی ہے۔ بہت سے مقتدی تو اس کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے کہ ہمیں علماء و ائمہ کی صحبت میں چند لمحے گزارنے چاہئیں۔ اگر کوئی اس کا آرزو مند ہو بھی تو اسے ائمہ کی صحبت میسر نہیں آتی۔ سلام پھیرا اور چند ہی لمحوں بعد امام صاحب مصلیٰ چھوڑ کر چلے گئے ۔ ائمہ کرام کی اپنی ضروریات اور مصروفیات ہوں گی۔ رسول اللّٰہﷺ کو بھی بہت سی دیگر مصروفیات تھیں اس کے باوجود آپﷺخصوصاً نمازِ فجر کے بعد طلوع آفتاب تک مصلاے امامت پر تشریف فرما رہتے اور اس دوران صحابہ کرام﷢ سے محوِ گفتگو بھی ہوتے۔ رسول اللّٰہﷺ کے نقشِ قدم پر چلنے کے بڑے بڑے دعویدار امام اس اُسوۂ نبوی کو اپنانے کے لیے تیار نہیں۔

سیدنا جابر بن سمرہ﷜ نبیﷺ کے ان لمحات کو ہمارے سامنے رکھتے ہیں۔ ایک دن سیدنا سماک بن حرب﷜ نے ان سے پوچھا: کیا آپ نبی کریمﷺ کی مجلس میں بیٹھا کرتے تھے؟ وہ کہنے لگے: بہت زیادہ۔ آپﷺ تو فجر کی نماز سے لے کر طلوعِ آفتاب تک مصلاے امامت پر تشریف فرما رہتے تھے۔ اس دوران صحابہ کرام﷢ آپﷺ سے گفت و شنید کرتے اور جاہلیت کی باتیں بھی کرتے، پھر وہ ہنستے بھی۔ اس دوران آپﷺمسکرا رہے ہوتے۔ [27] واضح ہوا کہ نبیﷺ صحابہ کرام ﷢سے صرف خطاب کے لیے تشریف فرما نہیں ہوتے تھے، اس کے علاوہ بھی ان میں گھل مل کر بیٹھتے تھے۔

10.    امام مقتدی حضرات سے کچھ پوچھ اور بتا سکتاہے:امام اور مقتدی کا پاکیزہ رشتہ ہمدردی اور خلوص کے جذبات سے پروان چڑھتا ہے۔ ہمدردی اور احساس کا اظہار ایک دوسرے کے دکھ درد میں شرکت سے ممکن ہے۔ نبی کریمﷺ اس کا خیال رکھا کرتے تھے۔

ایک دفعہ آپﷺ نے سفر میں نماز پڑھائی۔ نماز سے فارغ ہو کر رُخِ انور پھیرا تو ایک آدمی سب سے ہٹ کر علیحدہ بیٹھا ہوا تھا، جس نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی۔ آپﷺ نے فرمایا:

«مَا مَنَعَكَ یَا فُلَانُ أَنْ تُصَلِّىَ مَعَ الْقَوْمِ؟»

’’اے فلاں! لوگوں کے ساتھ نماز نہ پڑھنے میں کیا وجہ حائل ہوگئی؟‘‘

اس نے عرض کی: میں حالتِ جنابت میں تھا اور پانی تھا نہیں۔ فرمایا:

«عَلَیْكَ بِالصَّعِیدِ فَإِنَّهُ یَکْفِیكَ.»[28]

’’تم سطح زمین (سے) کچھ (پاک مٹی) لے لیتے۔ وہ (تیمم کی صورت میں) تمھیں کافی ہو جاتی۔ ‘‘

سیدنا سعد بن معاذ﷜جنگِ خندق میں شدید زخمی ہوئے تو آپﷺنے مسجد ہی میں ان کا خیمہ لگوا دیا تاکہ ان کی دیکھ بھال کی جاسکے۔ [29]    

ایک دفعہ ایک شخص نے آپﷺ کے سامنے تین مرتبہ جلدی جلدی نماز پڑھی اور ہر بار آکر آپﷺ سے ملتا رہا اور آپ یہی فرماتے رہے کہ «اِرْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ...» [30]

’’واپس چلے جاؤ، پھر نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔‘‘

پھر اس کے اندر نماز سیکھنے کے عندیہ پیدا ہوا اور آپﷺ نے اسے مکمل نماز پڑھنے کا طریقہ خود سکھایا۔