نقل و عقل کی کشمکش میں امام ابن تیمیہ (رح) کا موقف - پارٹ 2

 قانونِ کلی کا بیان

یہ وہ تناظر ہے کہ جس میں امام صاحب تمام فرقوں اور ان کے ائمہ کے اعتقادات اور ان کے دلائل پر تبصرہ کرتے ہوئے اشاعرہ میں سے باقلانی ، جوینی ، رازی  اور غزالی رحمہم اللہ  کی طرف آتے ہیں اور ان کے بیان کیے گئے ’’قانونِ کلی‘‘  یا ’’قانونِ تاویل‘‘  کا رد کرتے ہیں۔ امام صاحب نے اس قانون سے امام جوینی، امام رازی اور امام غزالی ﷫ کے رجوع کا بھی ذکر کیا ہے لہذا اسی لیے ان کا احترام سے ذکر بھی کرتے ہیں لیکن اس کے رد میں اس لیے شدت اور تفصیل اختیار کرتے ہیں کہ بنیادی طور پر یہ اشاعرہ کا دیا ہوا نظام فکر نہیں تھا،اشاعرہ نے اس نظام فکر کا بڑا حصہ فلاسفہ اسلام سے لیا تھا کہ جنہوں نے اسے یونانیوں سےاخذ کیا تھا۔ لہذا اس بڑے تناظر (bigger perspective) کا رد ضروری تھا کہ جس میں اشاعرہ کی ایک جماعت کی رائے وجود میں آ رہی تھی۔

یہ بھی واضح رہے کہ امام ابو الحسن الاشعری ﷫  یا متاخرین اشاعرہ کا یہ موقف نہیں تھا یعنی ’’قانون کلی کے اثبات‘‘  کا جیسا کہ قاضی ابن العربی نے امام غزالی     کا شاگرد ہونے کے باوجود ان پر یہ نقد کیا کہ ان کے استاذ فلسفے کے رد میں اس میں گھس تو گئے لیکن اس سے نکل نہ سکے۔ پس یہ اشاعرہ کی ایک جماعت یعنی باقلانی، جوینی، رازی اور غزالی﷫   وغیرہ کا موقف تھا کہ جن کی بہر حال ایک علمی حیثیت مسلم تھی تو اس کا رد کرنا پڑا۔

امام ابن تیمیہ﷫   کا کہنا ہے کہ متکلمین یعنی اشاعرہ نے ’’قانون کلی‘‘  فلاسفہ کی جماعت سے متاثر ہو کر اپنایا ہے بلکہ امام صاحب نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ امام غزالی          کو ’’الشفاء ‘‘ نے بیمار کر دیا ۔ اور ’’الشفاء ‘‘  معروف فلسفی ابن سینا متوفی 428ھ کی کتاب ہے۔ اشاعرہ میں سے پہلے پہل قاضی ابو بکر الباقلانی متوفی 402ھ  نے تعارض کی صورت میں عقل کو نقل پر ترجیح دینے کی بات کی۔ شوافع میں سے ابو حامد الاسفرائینی متوفی 406ھ اپنے معاصر شافعی عالم دین ابو بکر الباقلانی       کے افکار کا رد کرتے تھے۔ اس کے بعد الباقلانی ﷫    کے شاگرد خطیب بغدادی متوفی 463ھ نے یہی فکر پیش کیا کہ تعارض کی صورت میں عقل کو نقل پر ترجیح حاصل ہے۔

امام ابن تیمیہ﷫ کے بقول امام الحرمین الجوینی ﷫ متوفی 478ھ   نے نقل وعقل کی کشمکش میں عقل کو ترجیح دینے کا مسلک اپنی کتاب ’’الإرشاد إلى قواطع الأدلة في أصول الاعتقاد‘‘  میں بیان کیا۔ انکے بعد ان کے شاگرد امام غزالی متوفی 505ھ ﷫ نے اپنی کتاب ’’المستصفی ‘‘ اور ’’قانون التأویل‘‘ میں یہی موقف قدرے تفصیل سے پیش کیا۔ پھر اسے بہت ہی مرتب انداز میں امام رازی متوفی 606ھ﷫  نے اپنی کتاب ’’أساس التقديس في علم الكلام‘‘  میں پیش کیا اور اپنی چند دیگر کتب میں بھی اسے نقل کیا۔ امام ابن تیمیہ﷫    نے اپنی کتاب ’’درء تعارض العقل والنقل‘‘  میں 44 پہلوؤں سے اشاعرہ کے ’’قانون کلی‘‘  کا رد کیا ہے۔

امام رازی ﷫  کا کہنا ہے کہ جب نقلی اور عقلی دلیل میں تعارض ہو جائے تو  اس کی چار صورتیں بنتی ہیں؛

آپ تعارض کی صورت میں دونوں دلیلوں کو ہی درست قرار دیں جو کہ تصدیق نقیضین ہے یعنی دو متضاد چیزوں کو سچ مان لینا اور یہ عملاً ممکن نہیں کہ دو متضاد چیزیں سچ ثابت ہو جائیں۔

آپ نقل وعقل دونوں کو غلط کہہ دیں تو یہ تکذیب نقیضین ہے یعنی دو متضاد چیزوں کو جھوٹ قرار دینا تو یہ بھی ممکن نہیں یعنی آپ کو ان میں سے ایک کو لینا پڑے گا کہ ان میں سے ایک سچ ہے اور دوسرا جھوٹ ۔

آپ یہ کہیں کہ ہم نقلی دلیل کے ظاہری مفہوم کو لے لیتے ہیں جبکہ عقلی دلیل کے ظاہری مفہوم کو چھوڑ دیتے ہیں تو یہ بھی غلط ہے کیونکہ اگر ہم عقل کو چھوڑ کر نقل کو لے لیتے ہیں تو عقل غلط ثابت ہو جائے گی۔ کیونکہ اسی عقل کی بنیاد پر ہی تو ہم نقل کو ثابت کر رہے ہیں جیسا کہ خالق کا اثبات اور نبی کے معجزات عقل ہی سے تو ثابت ہوتے ہیں۔ پس  اگر آپ نے عقل کو غلط ثابت کر دیا تو نقل بھی غلط ہو جائے گی کہ عقل، نقل کی اصل ہے۔ پس  جب اصل غلط ہوئی تو فرع بھی غلط ہو گئی۔

اب چوتھی صورت ہی باقی رہ جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ دونوں میں تعارض کی صورت میں عقل کو نقل پر ترجیح دیں اور یہ کہیں کہ یا تو نقل صحیح نہیں ہے لہذا اس کا انکار کر دیں یا پھر اس نقل کا وہ مفہوم بیان کریں جو عقل کے مطابق ہو۔

قانونِ کلی کا رد

امام ابن تیمیہ﷫ نے اس ’’قانون کلی‘‘ یا ’’قانون تاویل‘‘ کا رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون تین مقدمات پر مشتمل ہے اور تینوں ہی باطل ہیں۔ اس قانون کا پہلا مقدمہ یہ ہے کہ نقل اور عقل میں تعارض ہوتا ہے۔ دوسرا مقدمہ یہ ہے کہ تعارض کی صرف چار صورتیں بنتی ہیں۔ تیسرا مقدمہ یہ ہے کہ ان چار میں چوتھی صورت ہی قابل حل ہے۔

کیا نقل وعقل میں تعارض ممکن ہے؟

امام صاحب یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم اس قانون کے پہلے مقدمے کی طرف آئیں کہ نقل اور عقل میں تعارض ہوتا ہے تو ہم یہ سوال کریں گے کہ پہلے یہ بتلائیں کہ آپ کی نقل اور عقل سے مراد کیا ہے؟ قطعی دلیل یا ظنی دلیل؟ اس کی عملاً تین صورتیں بنتی ہیں:

نقلی اور عقلی دونوں دلیلیں قطعی ہوں تو دونوں میں تعارض ممکن نہیں اور اس پر اہل عقل کا اتفاق ہے۔ اہل عقل کا کہنا یہ ہے کہ قطعی دلیل کبھی بھی قطعی دلیل کے متعارض نہیں ہو سکتی، چاہے دونوں نقلی ہوں، یا دونوں عقلی ہوں، یا ایک نقلی اور دوسری عقلی ہو۔ اور اگر کسی کو دو قطعی دلیلوں میں تعارض نظر آ رہا ہے تو اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں؛ ایک یہ کہ ان میں سے کوئی ایک دلیل قطعی نہ ہو اور دوسری یہ کہ اس کا غور وفکر کمزور ہو۔

نقل وعقل میں تعارض کی صورت میں ایک دلیل قطعی ہو اور دوسری ظنی ہو تو تمام اہل عقل کا اتفاق ہے کہ قطعی دلیل کو ظنی دلیل پر ترجیح حاصل ہو گی، چاہے وہ قطعی دلیل نقلی ہو یا عقلی ہو۔ تو یہاں ترجیح کی وجہ قطعی ہونا ہے نہ کہ عقلی ہونا لہذا قطعیت کو ترجیح ملی نہ کہ عقل کو۔ پس تعارض کی صورت میں عقل کی ترجیح کا قاعدہ کہاں سے لے آئے ہو!

نقلی اور عقلی دونوں دلیلیں ظنی ہوں تو اس صورت میں وجہ ترجیح کو دیکھیں گے اور اس کے مطابق فیصلہ کریں گے، چاہے وہ نقلی دلیل کے حق میں ہو یا عقلی دلیل کے حق میں۔ اور اس پر بھی عقلاء کا اتفاق ہے۔

امام صاحب   کہتے ہیں کہ اب ان کے پاس ایک ہی جواب ہو سکتا ہے کہ نقلی دلیل کبھی قطعی ہو ہی نہیں سکتی۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ دعوی ہی باطل ہے لیکن اگر ہم ان کے اس دعوے کو مان بھی لیں تو پھر بھی ان کا مقدمہ ثابت نہیں ہوتا کیونکہ اگر نقلی دلیل کو ظنی مان لیں گے تو عقلی دلیل کو عقلی ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ قطعی ہونے کی وجہ سے ترجیح دیں گے۔ لہذا اس صورت میں بھی ترجیح عقل کو نہیں قطعیت کو حاصل ہوئی ہے۔

امام صاحب    کا کہنا ہے کہ  جہاں تک ان کا یہ دعوی ہے کہ عقل، نقل کی اصل ہے۔ تو اس جملے کے دو معانی ہو سکتے ہیں؛ ایک یہ کہ عقل کے بغیر نقل ثابت ہی نہیں ہوتی تو ایسی بات تو کوئی صاحب عقل نہیں کرے گا۔ عقل ہو یا نہ ہو، نقل اگر ہے تو ہے۔ یعنی نقل کا ہونا یا نہ ہونا عقل کے مرہون منت نہیں ہے۔ عقل، نقل کے لیے ایسا سبب یا وجہ نہیں ہے کہ وہ ہو گی تو نقل ہو گی اور اگر وہ نہیں ہو گی تو نقل کا وجود بھی نہ ہو گا۔ نقل کے فی نفسہ وجود میں عقل کا کوئی کردار نہیں ہے۔ اور یہ بات عقلا ًثابت ہے۔

اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ نقل کے علم اور معرفت میں یعنی نقل کو جان لینے میں عقل کا مقام اصل کا ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوا کہ عقل سے تمہاری مراد کیا ہے؟ اگر تو عقل سے مراد آلہ عقل یعنی دماغ ہے تو یہ علم نہیں ہے بلکہ ہم اسے علم کے حصول کا ذریعہ یا شرط کہہ سکتے ہیں۔ تو جب یہ عقل علم ہی نہیں ہے تو اس کا نقل سے تعارض کا کیا معنی! تعارض تو ایک جیسی دو چیزوں میں ہوتا ہے۔ سوچ اور سوچ کا تعارض تو ہو سکتا ہے، دماغ اور سوچ کا کیا تعارض!

اور اگر عقل سے تمہاری مراد علوم عقلیہ ہیں تو واضح رہے کہ نقل کے صحیح ہونے کا دارو مدار اس پر ہے کہ اس کی نسبت رسول اللہ ؐ سے سچ ثابت ہو جائے۔ اور نقل کی یہ صحت بعض اوقات علوم عقلیہ کے ساتھ حاصل ہوتی ہے اور بعض اوقات ان کے بغیر بھی حاصل ہو جاتی ہے لہذا نقل اپنے صحیح ہونے میں،  کسی حال میں بھی عقل کی محتاج نہیں ہے۔ اسی طرح کل علوم عقلیہ، نقل کی صحت معلوم کرنے میں اصل نہیں ہیں بلکہ بعض علوم عقلیہ ایسے ہیں کہ جن پر نقل کی صحت کا دارو مدار ہے۔ لہذا بعض علوم عقلیہ کو غلط ثابت کرنے سے نقل غلط ثابت نہیں ہو گی کیونکہ وہ نقل کی صحت معلوم کرنے کے لیے اصل ہی نہیں ہیں تو تمہارا مقدمہ جاتا رہا کہ عقل کو باطل ثابت کرنے سے نقل بھی باطل ہو جائے گی۔

امام ابن تیمیہ  کا کہنا ہے کہ متکلمین کے ’’قانونِ کلی‘‘  کے تینوں مقدمات باطل ہیں۔ پہلا مقدمہ یہ کہ نقل و عقل میں تعارض ہو سکتا ہے تو ہم نے واضح کر دیا ہے کہ یہ محال یعنی ناممکن ہے۔ اور اگر ایسا نظر آ رہا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یا تو نقل صحیح نہیں ہے یعنی وہ ثابت شدہ ہی نہیں ہے یا پھر عقل صریح نہیں ہے یعنی اس کی وہ دلالت کہ جس سے نقل کا تعارض دکھلایا جا رہا ہے، صراحتاً نہیں ہے۔ پس نقل صحیح اور عقل صریح میں کبھی تعارض نہیں ہوتا ہے۔

نقل وعقل میں تعارض کی ممکنہ صورتیں

متکلمین کا دوسرا مقدمہ کہ نقل و عقل میں تعارض کی چار صورتیں بنتی ہیں، بھی غلط ہے؛

دونوں کی تصدیق کی جائے۔

دونوں کی تکذیب کی جائے۔

نقل کو ترجیح دی جائے ۔

عقل کو ترجیح دی جائے۔

قطعی کو ترجیح دی جائے جبکہ ان میں سے ایک قطعی ہو اور دوسری ظنی۔

راجح کو ترجیح دی جائے جبکہ دونوں ظنی ہوں۔

ان میں تعارض کو محال یعنی ناممکن قرار دیا جائے جبکہ یہ دونوں قطعی ہوں۔

 آخری تین صورتوں میں تعارض رفع ہو جاتا ہے جبکہ متکلمین ان صورتوں کو بیان ہی نہیں کرتے ہیں۔

نقل وعقل میں تعارض کی صورت ترجیح کس کو ہو گی؟

متکلمین کا تیسرا مقدمہ یہ تھا کہ نقل و عقل میں تعارض کی صورت میں عقل کو ترجیح دیں گے ،تو یہ بھی باطل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسی عقل نے ہماری رہنمائی کی ہے کہ ہم نقل کی تصدیق کریں یعنی رسول ؐ  کی رسالت کی تصدیق کریں اور ان کی لائی ہوئی وحی کی خبر پر ایمان لائیں لہذا عقل، نقل کی اصل ہے۔

امام ابن تیمیہ   کا کہنا ہے کہ اگر ہم نقل وعقل کے تعارض کی صورت میں عقل کو ترجیح دیں گے اور نقل کو باطل قرار دے دیں گے تو پھر عقل کی دلالت اور رہنمائی باطل قرار پائے گی کیونکہ عقل ہی نے تو نقل کی صحت پر دلالت کی تھی۔ پس اگر نقل باطل ہو گئی تو عقل کی دلالت باطل ہو گئی۔ اور جب عقل باطل ہو گئی تو وہ نقل کے معارض نہ رہی۔ پس عقل کو مقدم کرنے کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عقل کو مقدم نہ کیا جائے کہ جس کی دلالت باطل ہے یعنی جو چیز دلیل نہیں بن سکتی، وہ مقدم کیسے کی جا سکتی ہے!

اسی طرح نقل اور عقل میں اگر تعارض ہو جائے تو خود عقل یہ کہتی ہے کہ نقل کو ترجیح دو۔ اس کی مثال ایسے ہے جیسے کسی شخص نے کسی عامی (layman) سے مسئلہ پوچھا۔ عامی نے اسے کہا کہ فلاں مفتی صاحب سے پوچھ لو کہ وہ مجھ سے بڑے عالم ہیں، وہ صحیح جواب دیں گے۔ اب وہ عامی ان مفتی صاحب کے پاس جاتا ہے اور وہ اسے مسئلے کا حل بتلاتے ہیں۔ اس عامی کی اس شخص سے دوبارہ ملاقات ہوتی ہے تو وہ شخص یہ کہتا ہے کہ اس سوال کا جواب یہ نہیں ، بلکہ یہ ہے۔ اب اس عامی پر  واجب ہے کہ وہ اس شخص سے کہے کہ تمہی نے تو مجھے مفتی کا بتلایا ہے اور تمہارے کہنے پر ہی میں نے اس کی طرف رجوع کیا ہے لہذا اب تمہارا اختلاف معتبر نہیں ہے۔ وہ شخص اگر عامی سے کہتا ہے کہ مفتی کے پاس جانے کے لیے تو تم نے میری بات مان لی لیکن اب کیوں نہیں مان رہے؟ اس پر عامی کہتا ہے کہ مفتی تک پہنچنے کے لیے میں تمہاری رہنمائی کا قائل ہوں لیکن جب مفتی تک پہنچ گیا کہ تمہارے بقول وہی تھا کہ جو تم سے بڑا عالم تھا لہذا تم نے مجھے اس کی طرف بھیجا، لہذا اب اس کے ملنے کے بعد تمہارا اس سے اختلاف معتبر نہیں ہے۔

وہ شخص اس مثال میں عقل ہے جبکہ عامی سے مراد عام آدمی ہے اور مفتی سے مراد رسول ہے۔ اگر عقل نے انسان کی اس طرف رہنمائی کی ہے کہ وہ رسول کی تصدیق کرے اور اس کی وحی کی خبر پر ایمان لائے تو اس سے یہ کیسے لازم آتا ہے کہ اگر عقل جو کہ انسان کی رہنما ہے، اس کا رسول سے اختلاف ہو جائے تو عقل کی بات ہی مانی جائے۔ امام صاحب کہتے ہیں کہ کسی نے خوب کہا ہے کہ عقل متولی ہے یعنی عقل نے رسول تک رہنمائی کرنے کے بعد اپنی کرسی رسول کے لیے خالی کر دی ہے اور رسول کو اس کرسی پر بٹھا دیا ہے۔ اب عقل نے جس کو خود اپنی کرسی پر اس لیے بٹھایا ہے کہ وہ اس سے زیادہ اس کرسی کا حقدار ہے تو بعد ازاں کسی اختلاف کی صورت میں اسے کیسے وہاں سے اٹھا سکتی ہے! اور ایسا کرنے کی صورت میں عقل کا پہلا فیصلہ باطل ٹھہرے گا۔ لہذا جب اس کا پہلا فیصلہ باطل ٹھہرے گا تو وہ دلیل نہ رہی یعنی دلالت کے قابل نہ رہی لہذا معتبر ہی نہ رہی۔

پھر تعارض کی صورت میں اگر عقل کو نقل پر ترجیح دیں گے تو اختلاف پھر بھی  ختم نہ ہو گا کیونکہ عقل ایک نہیں ہے بلکہ اضافی (relative) ہے کہ ہر کسی کی اپنی عقل ہے لہذا ہر کسی کا حکم بھی اپنا ہو گا ۔ پس  خود عقل، عقل کے متعارض ہو جائے گی۔ اس طرح تعارض باقی رہے گا اور مقصد حاصل نہ ہو گا۔ رہی نقل یعنی شریعت اور وحی کی خبر تو اگر وہ صحیح ثابت ہو جائے تو ایک ہی ہے لہذا اس کو ترجیح دینے کی صورت میں عقل اور نقل کا تعارض واقعی میں رفع ہو جائے گا[1] ۔

اسی طرح نقل کو عقل پر اس لیے ترجیح دی جائے گی کہ عقل تمام نقل کی تصدیق کرتی ہے یعنی عقل یہ کہتی ہے کہ رسول نے جو بھی خبر دی ہے، اس پر ایمان لاؤ، بس صرف اتنا دیکھ لو کہ وہ رسول ہی نے دی ہے۔ لیکن نقل، تمام عقل کی تصدیق نہیں کرتی ہے کہ ان میں سے جو ضروری علوم ہیں، انہیں مانتی ہے جیسا کہ دو اور دو چار ہوتے ہیں وغیرہ، لیکن جو عقلی علوم نظری ہیں یعنی غور وفکر کے متقاضی ہیں تو نقل  ان کی کلی تصدیق نہیں کرتی ہے بلکہ نظری علوم تو خود عقلاء کے ہاں مختلف فیہ ہیں [2]۔