نقل و عقل کی کشمکش میں امام ابن تیمیہ کا موقف
امام ابن تیمیہ نے نقل وعقل کی کشمکش یا وحی اورعقل کے تعارض پر مفصل گفتگو اپنی کتاب ’’درء تعارض العقل والنقل‘‘ میں کی ہے یعنی نقل وعقل میں تعارض کو دفع کرنا۔ اس کتاب کا ایک اور معروف نام ’’موافقة صريح المعقول لصحيح المنقول‘‘ یعنی عقلِ صریح کی نقلِ صحیح کے ساتھ موافقت ہے۔ یہ کتاب گیارہ جلدوں میں الدکتور محمد رشاد سالم کی تحقیق کے ساتھ شائع ہوئی ہے جس میں ایک جلد فہارس پر مبنی ہے۔ اس کتاب کا بڑا موضوع’’قانون کلی‘‘ کا رد ہے کہ جسے مسلمان فلاسفہ ’’قانون کلی‘‘ کہتے ہیں جبکہ متکلمین ’’قانون تاویل‘‘ کہتے ہیں۔ امام ابن تیمیہ اس کتاب میں نہ صرف فلاسفہ اور متکلمین کے عقلی اصولوں کا ردّ کرتے ہیں بلکہ اس کے متبادل کے طور ایک پورا نظام فکر بھی دیتے ہیں اور یہ دعوی بھی نہیں کرتے کہ وہ اس نظام کے واضع ہیں بلکہ وہ اس نظام فکر کو سلف صالحین سے ثابت کرتے ہیں اور اسی وجہ سے اسے سلفی اسکول آف تھاٹ کہا جاتا ہے۔ یہ مضمون محض امام ابن تیمیہ کے موقف کی وضاحت ہے، انہی کی زبانی، البتہ انداز کلام جدلی ہو گا۔ اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ امام ابن تیمیہ یہ سب مباحث ایک خاص دور میں کر رہے تھے کہ جس کی فضا ہی جدلی تھی۔
معرفت الہی کے پانچ قرآنی اصول
کتاب کا آغاز اس طرح سے ہوتا ہے کہ امام ابن تیمیہ اپنے دور تک عقل ونقل کے باہمی تعارض اور کشمکش کے حوالے سے موجود بیانیوں کا خلاصہ پیش کرتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ یہ سب مروجہ بیانیے بدعتی ہیں۔ وہ انہیں اس لیے بدعتی بیانیے کہتے ہیں کہ ان کے بقول سنت کا بیانیہ، سلف کا بیانیہ ہے جو وہ پیش کر رہے ہیں جبکہ ان سب بیانیوں میں سے کسی ایک بیانیے کی بھی سلف سے نسبت ثابت کرنا ممکن نہیں ہے کہ سلف صالحین نے نہ تو اس طرح کے عقلی اصول بیان کیے اور نہ ہی اس طرح کلامی انداز میں بحث کی ۔ امام ابن تیمیہ کے بقول سلفی بیانیہ جن بنیادوں پر کھڑا ہے، وہ قرآنی اصول ہیں اور وہ کل ملا کر پانچ ہیں؛
پہلا ’’القول على الله بغير علم‘‘ یعنی اللہ پر علم وحی کے بغیر کوئی بات کہنا۔
دوسرا ’’قول غير الحق‘‘ یعنی وحی سے حق وثابت شدہ کے خلاف بات کہنا۔
تیسرا ’’الجدل بغير علم‘‘ یعنی وحی کے علم کو بنیاد بنائے بغیر مجادلہ کرنا۔
چوتھا ’’الجدل في آيات الله‘‘ یعنی اللہ کی آیات کو مجادلے کا میدان بنانا۔
اور پانچواں ’’التفرق والاختلاف‘‘ یعنی امت میں علمی تفرقہ اور اختلاف پیدا کرنا۔
نقل وعقل کے تعارض میں فیصلہ انہی پانچ اصولوں سے ہو گا۔ جو بیانیہ ان پانچ بنیادی اصولوں کی روشنی میں مرتب ہوا ہے تو وہ سلف کا نظام فکر ہے۔ اور جو بیانیہ ان پانچ اصولوں کی روشنی میں پروان نہیں چڑھا ، وہ بدعتی بیانیہ ہے۔
معرفت الہی کے بدعتی بیانیے
امام ابن تیمیہ لکھتے ہیں کہ عقل ونقل کے تعارض اور کشمکش کے حوالے سے بنیادی بیانیے دو ہی ہیں؛
’’تبدیل کا بیانیہ‘‘ اور ’’تجہیل کا بیانیہ‘‘ ۔
پھر تبدیل کے بیانیے سے مزید دو بیانیے نکلتے ہیں؛
ایک ’’تخییل کا بیانیہ‘‘ ہے اور دوسرا ’’تاویل کا بیانیہ‘‘ ۔
تخییل کے بیانیے کا خلاصہ یہ ہے کہ وحی نے انسانوں کو جو خبر دی ہے، وہ انسانوں کے خیال اور وہم کے مطابق دی ہے نہ کہ امر واقعہ (reality) کے مطابق۔ اس بیانیے کے امام ابن سینا ہیں۔ بہت سے فلاسفہ نے ان کی اس میں اتباع کی ہے بلکہ صوفیاء میں سے بعض فلاسفہ جیسا کہ شیخ ابن عربی وغیرہ بھی اسی بیانیے پر ہیں۔ مثال کے طور ان کا کہنا یہ ہے کہ وحی کے نزول کے زمانے میں لوگوں کا اللہ کے بارے تصور تھا کہ اس کا کوئی تخت ہو گا جیسا کہ بادشاہ کا تخت ہوتا ہے لہذا اللہ عزوجل کے لیے وحی میں عرش کا اثبات کیا گیا جبکہ حقیقت میں اللہ کا کوئی عرش نہیں ۔ اور لوگوں کے خدا کے بارے میں تصور کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ اثبات مصلحتاً ہوا ہے تا کہ عوام میں خدا کے تصور سے وحشت پیدا نہ ہو اور وحی کا خدا ان کے وہم اور خیال کے مطابق ہو تا کہ انہیں وحی کی خبر سے مانوسیت پیدا ہو۔
پھر اس گروہ کا اس میں اختلاف ہو گیا کہ نبی کو وحی کی خبر کی حقیقت کا علم تھا یا نہیں۔ بعض نے کہا کہ نبی کو حقیقت کا علم تھا لیکن نبی نے بھی مصلحتاً وحی کی خبر کے ظاہر کو ہی جاری کیا تا کہ لوگ خدا کا انکار نہ کر دیں۔ جبکہ بعض کا کہنا یہ ہے کہ نبی کو وحی کی خبر کی حقیقت کا علم ہی نہیں تھا کیونکہ اشیاء کی حقیقت کی تلاش نبی کا مقصد اور میدان نہیں ہے ،یہ فلسفے کا موضوع ہے نہ کہ نبوت کا اور نبی فلسفی نہیں ہوتا ۔ لہذا وحی کی خبر کی حقیقت کا علم ماہر فلاسفہ کو حاصل ہے۔ اسی وجہ سے بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ ماہر فلسفی، نبی سے افضل ہے، اس معنی میں کہ وہ اشیاء کی حقیقت کا علم رکھتا ہے جبکہ نبی کے پاس محض خبر ہے اور اسے خود اس کی حقیقت کا علم نہیں۔ اور بعض وہ ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ولی کامل، نبی سے افضل ہے کہ اسے کشف اور مشاہدے کے ذریعے وہی علم دیا گیا ہے جو فلاسفہ کو عقل کے ذریعے ملا ہے۔ فارابی نے ماہر فلسفی کو نبی پر ترجیح دی ہے اور ابن عربی نے کامل ولی کو نبی سے افضل کہا ہے کہ ان کے بقول یہ دونوں نبی سے زیادہ وحی کی خبر کی حقیقت کا علم رکھتے ہیں کہ وہ اپنے کمال عقل یا کامل مشاہدے سے اشیاء کی حقیقت کا علم حاصل کر لیتے ہیں۔ اور یہ نقطہ نظر من جملہ باطنیہ، اسماعیلیہ، فارابی، ابن سینا، سہروردی، ابن رشد، ابن عربی، ابن سبعین اور ابن طفیل وغیرہ کا ہے۔
’’تبدیل کے بیانیے‘‘ میں پہلا بیانیہ ’’ تخییل کا بیانیہ‘‘ فلاسفہ کا ہے، بھلے وہ محض فلسفی ہوں جیسا کہ فارابی، ابن سینا، اخوان الصفا اور ابن رشد وغیرہ یا صوفیاء میں سے فلاسفہ کہ جنہیں متفلسفین کہا جاتا ہے یعنی تکلف سے فلسفی بننے اور کہلوانے والے جیسا کہ سہروردی، ابن عربی، ابن سبعین اور ابن طفیل وغیرہ۔
اسی مکتبِ فکر ’’تبدیل کے بیانیے‘‘ میں دوسرا بیانیہ ’’تاویل کا بیانیہ‘‘ متکلمین کا ہے۔ متکلمین کے بیانیے کا خلاصہ یہ ہے کہ وحی کی خبر نے اپنی خبر میں لوگوں کے تخیل اور وہم کی بجائے حقیقت کے بیان کو ملحوظ رکھا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کیا، اس کا تعین ہماری عقل کرے گی۔ یہ گروہ وحی کی خبر میں متکلم کے مقصود تک پہنچنے کو اہمیت نہیں دیتا بلکہ اصل اہمیت اس بات کو دیتا ہے کہ وحی کی خبر ان کے عقلی مسلمات کی فہرست کے مطابق اور موافق ہو جائے۔ معتزلہ، کلابیہ، کرامیہ اور اہل تشیع کے گروہ یہی کام کرتے ہیں۔
دوسرا مکتبِ فکر ’’تجہیل کا بیانیہ‘‘ ہے۔ ان میں سے بعض کا کہنا ہے کہ وحی کی خبر کے حقیقی معانی کوئی نہیں جانتا یہاں تک کہ رسول ﷺ کے علم میں بھی نہیں تھے لہذا آپ ؐ کی اخبار اگر عقلی مسلمات کے خلاف ہوں گی تو مردود ہوں گی جیسا کہ عذاب قبر، بعث بعد الموت، قیامت اور جنت وجہنم کے بارے بہت سی اخبار جو عقل وسمجھ سے بالاتر ہیں۔ ان کے بقول وحی کی حقیقت اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔
ان میں سے بعض کا کہنا یہ ہے کہ نبی وحی کی خبر کی حقیقت کو تو جانتا ہے لیکن اس حقیقت کو اس نے بیان نہیں کیا۔ اس مکتبِ فکر کے قائدین جہمیہ ہیں۔ ان سے آگے کئی فرقے نکلے ہیں جیسا کہ مفوضہ ہیں۔