حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قرابتداری کسی سے مخفی نہیں، وہ رسول اللہ اکے کاتب تھے بلکہ کاتب وحی تھے جیسا کہ امام معافی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ بھی لکھتے ہیں ’’کان یکتب الوحی فھوممن ائتمنہ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم علی کتابۃ الوحی‘‘ کہ وہ کاتب وحی تھے اور وہ ان حضرات میں سے تھے جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتابت وحی میں امین بنایا تھا (منہاج السنۃ ص 11ج 4) نیز ملاحظہ ہو منہاج ص 214ج 2‘ بلکہ حافظ ابن حزم رحمہ اللہ تو لکھتے ہیں : وکان زید بن ثابت من الزم الناس لذلک ثم تلاہ معاویۃ بعد الفتح فکانا ملازمین للکتابۃ بین یدیہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فی الوحی وغیرذلک، لا عمل لھما غیر ذٰلک۔ (جوامع السیرۃ ص 27) ’’کہ حضرت زید رضی اللہ عنہ بن ثابت سب سے زیادہ کتابت سے متعلق تھے فتح مکہ کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بھی یہ ڈیوٹی سرانجام دیتے تھے، یہ دونوں حضرات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہمیشہ کتابت وحی وغیرہ کے لئے مستعد رہتے، اس کے علاوہ ان کی اور کوئی ذمہ داری نہ تھی‘‘ علامہ نووی رحمہ اللہ نے بھی لکھا ہے کہ ’’ کان اکثرھم کتابۃ زید بن ثابت و معاویۃ ‘‘ کہ اکثر طور پر لکھنے کا کام حصرت زید رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کرتے۔ (تہذیب الاسماء ص 29ج 1)۔ یہی بات علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے تلقیح فھوم أھل العصر ص 37 اور المدھش ص43 میں کہی ہے اور یہی کچھ قاضی عیاض رحمہ اللہ نے الشفاء میں اور علامہ الخفاجی نے اس کی شرح نسیم الریاض( ص 430 ج 3) ‘ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے بتکرار البدایہ (ج 8ص 21‘ 117‘ 119‘122)، علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے تاریخ الاسلام (ص 309 ج2 )‘ السیر (ج 3ص 123) ‘ علامہ الفاسی رحمہ اللہ نے العقد الثمین( ص 91ج 6) ‘ علامہ ابن العماد نے شذرات الذھب (ص 65ج 1)‘ علامہ عمر بن علی بن سمرۃ نے طبقات فقہاء الیمن (ص 47)‘ علامہ ابن قدامہ نے لمعۃ الاعتقاد (ص 79مترجم) ‘ علامہ ابن حجر ہیتمی نے تطہیر الجنان (ص 10) صاحب مشکاۃ علامہ ابو عبداللہ محمد رحمہ اللہ بن عبداللہ الخطیب نے اکمال میں کہا ہے کہ وہ کاتب وحی تھے۔ البتہ ابو الحسن علی رحمہ اللہ بن محمد المدائنی المتوفی 224ھ نے کہا ہے کہ حصرت معاویہ رضی اللہ عنہ صرف مکتوبات نبوی کے کاتب تھے انہی کے قول کی بنیاد پر بعض متاخرین نے لکھا ہے کہ وہ کاتب وحی نہ تھے۔ مگر امام معافی رحمہ اللہ بن عمران کے مقابلے میں جو ابو الحسن المدائنی سے اقدم ہیں اور زیادہ ثقہ بھی ہیں کی بات کو رد کر دینا بلاجواز ہے۔ اما م احمد رحمہ اللہ سے بسند صحیح منقول ہے کہ ان سے دریافت کیا گیا کہ ’’ماتقول رحمک اللّٰہ فیمن قال لااقول أن معاویۃ کاتب الوحی‘‘ اس کے بارے میں آپ کا کیا ارشاد ہے کہ جو کہتا ہے کہ میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو کاتب وحی تسلیم نہیں کرتا۔ تو انہوں نے فرمایا: ’’ھذا قول سوء ردی ء یجانبون ھؤلاء القوم ولایجالسون ونبین امرھم للناس‘‘کہ برا، ردی قول ہے لوگوں کو ان سے اجتناب کرنا چاہیے نہ ہی ان کے پاس بیٹھنا چاہیے ہم لوگوں کو ان کے بارے میں خبردار کریں گے۔ (السنۃ للخلال ص 434) جس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا کاتب ہونا تو قطعاً مختلف فیہ نہیں بعض شیعہ مؤرخین نے بھی اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے اور اکثر مؤرخین اور اہل علم نے کہا ہے کہ وہ کاتب وحی بھی تھے بلکہ اس بارے جس قدر اختصاص حضرت زید رضی اللہ عنہ کو حاصل تھا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بھی اس میں ان کے ہمنوا تھے جیسا کہ حافظ ابن حزم رحمہ اللہ نے کہا ہے۔