کسبِ حلال فرض ہے

ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا ۖ إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ﴾[1]”اے انبیاء (علیہم السلام) کی جماعت پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو، بے شک مجھے اُس کا علم ہے جو کچھ تم کرتے ہو“فائدہ: اس آیت کریمہ میں اللہ جل جلالہ نے اپنے انبیاء کرام علیہم السلام کو مخاطب کر کے فرمایا کہ عمل صالح سے قبل پاکیزہ اور حلال روزی کا خیال رکھنا اور حرام سے اجتناب کرنا بہت ضروری ہے، اس لیے کہ عمل صالح سے قبل اگر طیب اور غیر طیب کا خیال نہ رکھا جائے تو عمل صالح اپنی افادیت کو کھودیتا ہے کیونکہ عمل صالح کی افادیت یہ ہے کہ وہ اللہ جل جلالہ کی بارگاہ میں شرف قبولیت حاصل کرے اور اس شرف کا حصول حلال اور طیب روزی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔2۔﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ﴾[2]”اے ایمان والو!جو کچھ ہم نے(اللہ جل جلالہ نے) تمھیں عطا کیا ہے اُس میں سے پاکیزہ چیزیں کھاؤ۔“یہ آیت بیان کرنے کے بعد رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا ذکر فرمایا چنانچہ حدیث کے الفاظ ہیں: ((ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ وَأَغْبَرَ يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ: يَا رَبِّ يَا رَبِّ، وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ، وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ، وَغُذِيَ بِالْحَرَامِ، فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ؟))[3]”جو طویل سفر کرتا ہے بال پریشاں گردوغبار میں اٹَا ہوا اپنے ہاتھ(دعا کےلیے) آسمان کی طرف اُٹھاتا ہے اور پکارتا ہے،یارب یارب!جبکہ اُس کا کھانا حرام کا ہے،پیناحرام کا ہے،پہننا حرام کا ہے اور حرام اُس کی گھٹی میں پڑ چکا ہے(حرام کی غذا سے پلا ہے) تو ایسے شخص کی دُعا کیونکر قبول ہوگی۔٭ گویا دُعا کی قبولیت جیسی نعمت سے محروم کردیاجاتا ہے جسے مؤمن کا ہتھیار قراردیا گیا اور عبادت کا مغز قراردیاگیا،اگر عبادت سے دعانکال دی جائے تو باقی ماندہ عبادت چھلکے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی اور حرام کے استعمال سے آدمی دعا کی قبولیت کاشرف کھوبیٹھتا ہے اور یہ دُنیا اور آخرت میں بہت بڑا خسارہ ہے۔3۔ ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الأَرْضِ حَلالا طَيِّبًا﴾[4]”اے لوگو!زمین میں سے حلال اورپاکیزہ کھاؤ۔“4۔ ((طَلَبُ كَسْبِ الْحَلاَلِ فَرِيضَةٌ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ))[5]”حلال روزی کا طلب کرنا فریضہ ایمان کے بعد فرض ہے۔“ 5۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم كا فرمان ہے:((إنَّ اللّٰه طَيِّبٌ لا يَقْبَلُ إلاَّ طيِّباً))[6]”بیشک اللہ جل جلالہ پاک ہے اورپاکیزہ چیزوں کو ہی قبول کرتا ہے۔“گویا اللہ جل جلالہ کی راہ میں حرام مال سے صدقہ خیرات قبول نہیں کیاجاتا ہے اس لیے آدمی ہمیشہ حلال کی جستجو میں رہے،حرام سے اجتناب کرے نہ خود حرام کھائے،نہ اولاد کو حرام کھلائے اور نہ اللہ جل جلالہ کی راہ میں حرام لگائے۔6۔ ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُم مِّنَ الْأَرْضِ ۖ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنفِقُونَ وَلَسْتُم بِآخِذِيهِ إِلَّا أَن تُغْمِضُوا فِيهِ﴾[7] ”اے ایمان والو! جو پاکیزہ اورعمدہ مال تم کھاتے ہو اور جو چیزیں ہم تمہارے لیے زمین سے نکالتے ہیں اُن میں سے(اللہ کی راہ میں) خرچ کرواور بُری اور ناپاک چیزیں دینے کا قصد نہ کرنا کہ اگر وہ چیزیں تمھیں دی جائیں تو بجز اس کے کہ(لیتے وقت) آنکھیں بند کرلو اُن کو کبھی نہ لوگے۔“

------------------------------------------------------------------------------------

[1] ۔سورة المؤمنون:51

[2] ۔سورة البقرة:172

[3] ۔مسلم ،ترمذي

[4] ۔سورة البقرة:168

[5] ۔بيهقي

[6] ۔صحيح مسلم

[7] ۔سورة البقرة:267