شعبان کے روزے :
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس قدر روزے ماہ شعبان میں رکھتے کسی اور مہینے میں نہ رکھتے تھے۔ تقریباً پورا مہینہ روزے سے رہتے۔ یہ حدیث بخاری اور مسلم میں مختلف الفاظ سے بیان ہوئی ہے۔ ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے تھوڑے ہی روزے رکھتے تھے، بلکہ تمام روزے رکھتے تھے۔
(آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کا اکثر حصہ بلکہ پورا مہینہ روزے رکھتے) حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بیان کردہ ایک حدیث میں یوں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے علاوہ شعبان کے بھی روزے رکھتے اور اس رمضان کے ساتھ ملاتے اس کے سوا کسی دوسرے پورے مہینے کے روزے نہ رکھتے ابن ماجہ کی ایک روایت کے الفاظ ہیں ۔
شعبان اور رمضان کے روزے رکھتے تھے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پورے شعبان اور رمضان کے روزے رکھتے)
یہی حدیث ترمذی نے بیان کر کے اسے "حسن" قرار دیا ہے۔
آپ کے لیے رات:
نصف شعبان کی رات کی فضیلت کے متعلق بہقی وغیرہ نے بعض احادیث لکھی ہیں ۔ اس رات کو نوافل ادا کرنے اور دن کو روزہ رکھنے اور ذکر و اذکار کے متعلق منذری رحمہ اللہ نے ترغیب و ترہیب“ میں احادیث درج کی ہیں ۔
لائٹس اور آتش بازی:
ہمارے ملک میں یہ رسم ہے کہ اس رات کو گھروں میں اور دیواروں پر چراغ جلاتے ہیں اور آتشبازی کرتے ہیں ، یہ ایک بہت بڑی بدعت ہے۔ جس کی کوئی بنیاد نہیں بلکہ اس کا گناہ کبیرہ ہونا ثابت ہے۔ کیونکہ یہ رات قیام و ذکر اور دن روزے کے لئے خاص ہے اب اس کی ضد میں اس رات کو لہو و لعب میں مشغول ہونا یقیناً بہت بڑا جرم ہے۔ یہ رسم ہمارے ملک کے سوا کسی اور ملک میں نہیں پائی جاتی۔ یہاں ہندوؤں کی دیوالی کو دیکھ کر مسلمانوں نے اس طرح چراغاں کرنا شروع کر دیا۔ سب سے پہلے چراغاں کرنے والے ’’برامکہ‘‘ تھے۔ مسلمان جہلاء نے آتش پرست مجوسیوں اور ہندوؤں سے اس رسم کو حاصل کر کے اپنایا۔ فَمَا اَشْبَہَ اللَّیْلَۃَ بِالْبَارحَۃٍ۔