اسلام اور مسلمانوں کے عمل میں واضح فرق کیوں؟

’’اگر اسلام بہترین مذہب ہے تو بہت سے مسلمان بے ایمان کیوں ہیں اور دھوکے بازی، رشوت اور منشیات فروشی میں کیوں ملوث ہیں؟‘‘

اسلام بلاشبہ بہترین مذہب ہے لیکن میڈیا مغرب کے ہاتھ میں ہے جو اسلام سے خوفزدہ ہے۔ میڈیا مسلسل اسلام کے خلاف خبریں نشر کرتا اور غلط معلومات پہنچاتا ہے۔ وہ اسلام کے بارے میں غلط تاثر پیش کرتاہے، غلط حوالے دیتا ہے اور واقعات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہے۔ جب کسی جگہ کوئی بم پھٹتا ہے تو بغیر کسی ثبوت کے سب سے پہلے مسلمانوں پر الزام لگا دیا جاتا ہے۔ وہ الزام خبروں میں سب سے زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ لیکن بعد میں جب یہ پتہ چلتا ہے کہ اس کے ذمہ دار غیر مسلم تھے تو یہ ایک غیر اہم اور غیر نمایاں خبر بن کر رہ جاتی ہے،اسی طرح اگر کوئی پچاس برس کا مسلمان کسی پندرہ سالہ لڑکی سے اس کی اجازت سے شادی کرتا ہے تو مغربی اخبارات میں وہ پہلے صفحے کی خبر بنتی ہے۔ لیکن جب کوئی 50 سالہ غیر مسلم 6 سالہ لڑکی کی عصمت دری کرتا ہے تو یہ سانحہ اندر کے صفحات میں ایک معمولی سی خبر کے طور پر شائع ہوتا ہے۔ امریکہ میں روزانہ عصمت دری کے 2713 واقعات پیش آتے ہیں لیکن یہ خبروں میں جگہ نہیں پاتے کیونکہ یہ امریکیوں کی طرزِ زندگی کا ایک حصہ ہیں۔

ہر معاشرے میں ناکارہ لوگ ہوتے ہیں

میں اس بات سے باخبر ہوں کہ ایسے مسلمان یقینا موجود ہیں جو دیانتدار نہیں اور دھوکے بازی اور دوسری مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ لیکن میڈیا یہ ثابت کرتا ہے کہ صرف مسلمان ہی ان کا ارتکاب کرتے ہیں، حالانکہ ایسے افراد اور جرائم دنیا کے ہر ملک اور ہر معاشرے میں ہوتے ہیں۔ اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ بہت سے مسلمان بلا نوش ہیں اور غیر مسلموں کے ساتھ مل کر شراب نوشی کرتے ہیں۔

مسلم معاشرے کی مجموعی حالت بہتر ہے

اگرچہ مسلمان معاشرے میں بھی کالی بھیڑیں موجود ہیں مگر مجموعی طور پر مسلمانوں کا معاشرہ دنیا کا بہترین معاشرہ ہے۔ ہمارا معاشرہ دنیا کا وہ سب سے بڑا معاشرہ ہے جو شراب نوشی کے خلاف ہے، یعنی ہمارے ہاں عام مسلمان شراب نہیں پیتے۔ مجموعی طور پر ہماراہی معاشرہ ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ خیرات کرتا ہے۔ اور جہاں تک حیا، متانت، انسانی اقدار اور اخلاقیات کا تعلق ہے دنیا کا کوئی معاشرہ ان کی مثال پیش نہیں کر سکتا۔ بوسنیا، عراق اور افغانستان میں مسلمان قیدیوں سے عیسائیوں کا سلوک اور برطانوی خاتون صحافی کے ساتھ طالبان کے برتاؤ میں واضح فرق صاف ظاہر ہے ۔

کار کو ڈرائیور سے نہ پرکھیے

اگر آپ جاننا چاہیں کہ مرسیڈیز کار کا نیا ماڈل کیسا ہے اور ایک ایسا شخص جو ڈرائیونگ نہیں جانتا سٹیرنگ پر بیٹھ جائے اور گاڑی کہیں دے مارے تو آپ کس کو الزام دیں گے؟ کار کو یا ڈرائیور کو؟ فطری بات ہے کہ آپ ڈرائیور کو الزام دیں گے۔ یہ دیکھنے کے لیے کہ کار کتنی اچھی ہے، ڈرائیور کو نہیں بلکہ کار کی صلاحیت اوراس کے مختلف پہلوئوں کو دیکھنا چاہیے کہ یہ کتنی تیز چلتی ہے، ایندھن کتنا استعمال کرتی ہے، کتنی محفوظ ہے وغیرہ وغیرہ۔اسی طرح اگر یہ بات محض دلیل کے طور پر مان بھی لی جائے کہ مسلمان خراب ہیں تو بھی ہم اسلام کو اس کے پیروکاروں سے نہیں جانچ سکتے۔ اگر آپ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ اسلام کتنا اچھا ہے تو اُسے اس کے مستند ذرائع سے پرکھیں، یعنی قرآنِ مجید اور صحیح احادیث سے!

اسلام کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی سے پرکھیں

اگر آپ عملی طور پر یہ دیکھنا چاہیں کہ کار کتنی اچھی ہے تو اس کے سٹیرنگ وہیل پر کسی ماہر ڈرائیور کو بٹھائیں، اسی طرح یہ دیکھنے کے لیے کہ اسلام کتنا اچھا دین ہے تو اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم اللہ کے آخری پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سامنے رکھ کر دیکھیں۔ مسلمانوں کے علاوہ بہت سے دیانتدار اور غیر متعصب غیر مسلم مؤرخوں نے علانیہ کہا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بہترین انسان تھے۔ مائیکل ایچ ہارٹ نے ’’تاریخ پر اثر انداز ہونے والے سو انسان‘‘ کے عنوان سے کتاب لکھی جس میں سرفہرست پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم گرامی ہے۔ غیر مسلموں کی اور بھی بہت سی مثالیں ہیں جن میں انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت زیادہ تعریف کی ہے، مثلاً: تھامس کارلائل، لامارٹن وغیرہ۔