جشن میلاد النبی، سنت یا بدعت؟

مسلمانانِ عالم کی اچھی خاصی تعداد جو برصغیر پاک و ہند اور اس کے اطراف سے تعلق رکھتی ہے، ہر سال 12 ربیع الاول کو رسولُ اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا جشن پیدائش عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے مناتی ہے۔ اس تقریب کا انعقاد کرنے والے اسے کارثواب سمجھ کر کرتے ہیں ۔ان تقاریب میں چندہ دینے والے اور شرکت کرنے والے حضرات کو ثواب دارین کی خوش خبریاں بھی منتظم صاحبان کی طرف سے دی جاتی ہیں، حالانکہ یہ رسم سراسر ایک بدعت ہے۔ اس کا ثبوت قرآن و حدیث میں کہیں بھی نہیں ملتا۔ پھردوسری بات یہ ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کا جشن منانا جائز ہے تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کیوں کر اپنی سالگرہ نہ منائی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنی سالگرہ نہ منانے سے دو باتیں ظاہر ہوتی ہیں:

  1. پہلی تو یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ تو حق تعالیٰ نے اس کا حکم دیا اور نہ ہی خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فعل کو درست جانا۔
  2. دوسری بات یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن کی فضیلت نہ تو اپنے اُمتیوں کو بتائی اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتیوں نے اس دن کو فضیلت کا دن جانا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا جشن منایا۔ حدیث و تاریخ کی کتابیں اس بات پر گواہ ہیں کہ کائنات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی جانیں نچھاور کرنے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم تھے،مگر کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے نہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے منایا۔لہٰذایہ ایک ایسا امر ہے جو کہ کسی بھی اعتبار سے کار ثواب نہیں بلکہ یہ کار عذاب ہے کہ اس دن مسلمان موسیقی و قوالی، بھنگڑے اور ناچ گانے کا اہتمام کرتے ہیں، جلوس نکالتے ہیں، جن میں اسلام فروش ملا ّ ڈھول باجے کی تھاپ پر نعتیں پڑھتے ہیں ۔ ریڈیو اور ٹی وی پر بے پردہ اور بے حیا عورتیں نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پڑھ کر اپنے مسلمان ہونے اور محبّ رسول ہونے کے دعوے پیش کرتی ہیں حالانکہ مسلمان عورت پر پردہ لازم ہے۔ ان کا یوں بے پردہ ہو کر گھروں سے نکلنا احکام اسلام کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ عورت کی تو آواز بھی اسلام میں ایک حد تک ستر میں داخل ہے، مگر یہ نعت خوان عورتیں اپنے اس ستر کو فروخت کرتی پھرتی ہیں ۔ اسی طرح بہت سے نام نہاد داڑھی منڈے اور بے نمازی مرد بھی نعت خوانی کے ذریعے اپنے پیٹ کا جہنم بھرتے ہیں ۔ یہ لوگ اس عید میلاد میں جا بجا نعتیں پڑھتے اور نذرانے وصول کرکے اپنا کاروبار چلاتے ہیں، لیکن جب نمازوں کا وقت آتا ہے تو یہ نعت خوان ایک طرف اکٹھے ہو کر پان کھاتے اور سگریٹیں پھونکتے ہیں ۔ اگر آج مسلمانان عالم اس بدعت قبیحہ سے باز آجائیں تو ان عورتوں اور مردوں کا یہ کاروبار ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ایک بدعت اپنے جلو میں ہزاروں برائیاں رکھتی ہے اور ایک سنت اپنے جلو میں لاکھوں بھلائیاں رکھتی ہے۔ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلط ہونے کی ایک تاریخی دلیل یہ بھی ہے کہ ۱۲ ربیع الاول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا دن نہیں بلکہ صحیح ترین تحقیق کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ پیدائش 9 ربیع الاول ہے۔ اس بات کی وضاحت سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں مولانا شبلی نعمانی ؒنے بہت اچھی طرح کی ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ 12 ربیع الاول کو خوشیاں منانے والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کی خوشیاں نہیں مناتے بلکہ آپ کی وفات پر خوشیاں مناتے ہیں، کیونکہ تمام اہل سنت مورخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ 12 ربیع الاول کونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تھی۔ برادارنِ اسلام! ذرا غور فرمایئے ، ہم کس قدر شقی القلب ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے دن خوشیاں مناتے ، جلوس نکالتے اور ناچتے گاتے ہیں ۔ کیا اسی کا نام محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے؟ ﷲیہ کم علمی کی انتہا ء نہیں تو پھر اور کیا ہے؟ یہ جہالت اور نادانی کی انتہا نہیں تو اور کیا ہے؟ کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے دن عید منایا کرتے ہیں ۔ برادرانِ اسلام! ہوش و خر د کی دنیا میں آیئے اور تحقیق کیجیئے کہ کس دشمن نے آپ کو اس غلط راہ پر لگایا؟ وہ کون ظالم تھا جس نے آپ کو الٹا سبق پڑھایا؟ وہ لوگ کون ہیں جو آپ کو غلط راستے پر لے جانا چاہتے ہیں ؟ یہ لوگ یہ مدعیان ِ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کن کے گماشتے اور وظیفہ خوار ہیں کبھی آپ نے غور فرمایا؟ اگر نہیں غور کیا تو آئیے اور تحقیق کی دنیا میں ہمارے شانہ بشانہ چلیئے ہم ان شآء اﷲ آپ کو صحیح راستہ دکھائیں گے۔ چنانچہ ملاحظہ فرمائیے تاریخ ابتدائے بدعت ِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم جسے میں مولانا کرم الدین صاحب سلفی کے کتابچہ ’’ولادتِ با سعادت اور ربیع الاول‘‘ سے نقل کر رہا ہوں ۔

مجالس میلاد کی ایجاد کی تاریخ

میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالس و محافل اور اس کا جشن سب سے پہلے ساتویں صدی ہجری کے شروع تقریباَ 604 میں منایا گیا ۔  (ابن خلکان).

 اس کا اول موجد ابوسعید کوکبری بن ابی الحسن علی بن بکتگین بن محمد المقلب الملک المعظم مظفر الدین صاحبِ اربل (موصل) المتوفی 18 رمضان 630 هـ ہے۔ یہ بادشاہ ان محفلوں میں بے دریغ پیسہ خرچ کرتا اور آلاتِ لہو و لعب کے ساتھ راگ رنگ کی محفلیں منعقد کرتا تھا۔ مولانا رشید احمد گنگوہی لکھتے ہیں : (وقد صرح اھل التاریخ بانہ یجمع اصحاب الملاھی والمزامیر فی ھذا العمل ویسمع الغناء واصوات اللھو ویرقص بنفسہ ومن حولہ کذالک فلا شک فی فسقہٖ وضلالتہ فکیف یستند بعض مثلہ ویعتمد علی قولہ) (فتاویٰ رشیدیہ ص: 132) ’’اہل تاریخ نے صراحت کی ہے کہ یہ بادشاہ بھانڈوں اور گانے والوں کو جمع کرتا اور گانے کے آلات سے گانا سنتا اور خود ناچتااور اسکے ارد گرد والے لوگ بھی ناچتے۔ ایسے شخص کے فسق اور گمراہی میں کوئی شک نہیں ہے۔اس جیسے کے فعل کو کیسے روا اور اس کے قول پر کیسے اعتماد کیا جا سکتا ہے؟‘‘ مختصر کیفیت اس فسق کی اور ایجاد اس بدعت کی یہ ہے کہ مجلس مولود کے اہتمام میں بیس قبے لکڑی کے بڑے عالیشان بنواتا اور ہر قبہ میں پانچ پانچ طبقے ہوتے۔ ابتداء صفر سے ان کو مزیّن کیا جاتا، ہر طبقہ میں ایک ایک جماعت راگ گانے والوں ، ٹپہ خیال گانے والوں اور باجے کھیل تماشے ناچ کود کرنے والوں کی بٹھائی جاتی اور بادشاہ مظفر الدین خود مع اراکین و ہزار ہا مخلوقِ قرب و جوار کے ہر روز ان قبوں اور طبقوں میں جا کر ناچ رنگ وغیرہ سن کر خوش ہوتا اور خود ناچتا۔ پھر اپنے قبہ میں تمام رات راگ رنگ اور لہوو لعب میں مشغول رہتا اور قبل دوروز یوم مولد کے اونٹ گائیں، بکریاں بے شمار طبلوں اور آلات گانا ولہو کے ساتھ جتنے اس کے یہاں تھے نکال کر میدان میں ان کو ذبح کراکر ہر قسم کے کھانوں کی تیاری کرواکر اہل مجالس ِ لہو کو کھلاتا اور شب مولود کو کثرت سے قلعہ میں راگ گواتا تھا۔ چنانچہ تاریخ ابن خلکان میں ہے: )فاذا کان اول صفر زینوا تلک القباب بانواع الزینۃ الفاخرۃ المتجملۃ وقعد فی کل قبۃ جوق من المغانی وجوق من ارباب الخیال ومن اصحاب الملاھی)وایضاً فیہ:(فکان مظفر الدین ینزل کل یوم بعد صلوٰۃ العصر ویقف علی قبۃ قبۃٍ الی اخرھا ویسمع غناء ھم ویتفرح علی خیالاتھم) وایضاً فیہ:(فاذا کان قبل المولد بیومین اخرج من الابل والبقر والغنم شیئاً کثیراً زائداً عن الوصف وزفھا بجمیع ما عندہ من الطبول والمغانی والملاھی حتی یاتیھا الی المیدان ثم یشرعون فی نحرھا وینصون القدور ویطبخون الالوان المختلفۃ فاذا کان لیلۃ المولد عمل السماعات بعد ان یصلی المغرب فی القلعۃ) [1]موجودہ دور میں ان محفلوں میں ٹوسٹ ناچ ، بھنگڑا ناچ، بھنگڑے اور آلاتِ موسیقی کے گانوں کی دھنوں پر لوگ رقصاں ہوتے ہیں اور زرق برق لباس کے ساتھ مردوزن کا اختلاط (میل ملاپ) ہوتا ہے حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گانے ختم کرنے اور آلات ِ موسیقی توڑنے مٹانے کا حکم دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اَمَرَنِیْ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ بِمَحْقِ الْمَعَازِفِ وَالْمَزَامِیْرِ [2]اﷲتعالیٰ نے مجھے ان آلات لہوو لعب کے مٹا دینے کا حکم دیا ہے جو ہاتھ سے بجائے جاتے ہیں اور جو منہ سے (باجے وغیرہ) بجائے جاتے ہیں ۔[3]

محفل میلاد کے جواز کا فتویٰ دینے والا اور اس کے لیے مواد جمع کرنے والا ایک دنیا پرست جھوٹا اور بے دین آدمی تھا۔ بادشاہ نے اس کے صلہ میں اس کو ایک ہزار اشرفی انعام دی تھی۔ [1] اس کا نام ابوالخطاب عمر بن الحسن المعروف بابن دحیۃ الکلبی متوفی 633؁ھ ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: (قال ابن النجار رایت الناس مجتمعین علی کذبہ وضعفہ) [2] ’’ابن نجار کہتے ہیں کہ میں نے تمام لوگوں کو اس کے جھوٹ اور ضعیف ہونے پر متفق پایا ہے۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں : (کثیر الوقیعۃ فی الائمۃ وفی السلف من العلماء خبیث اللسان احمق شدید الکبر قلیل النظر فی امور الدین متھاونا) [3] ’’وہ آئمہ دین اور سلف صالحین کی شان میں گستاخی کرنے والا اور خبیث زبان والا تھا، بڑا احمق اور متکبر تھا اور دین کے کاموں میں بڑا بے پرواہ اور سست تھا۔‘‘

[1] فتاویٰ رشیدیہ ص 132، تاریخ ابن خلکان ص 437 طبع قدیم ملخصاَ

[2] مشکوٰۃ جلد دوم ص 318

[3] گانا اور موسیقی کے حرام ہونے کے دلائل کی تفصیل کیلئے دیکھیئے ہماری کتاب’’سازوآواز یا گانا وموسیقی‘‘مکتبہ کتاب وسنّت،ریحان چیمہ،مدرسہ اصلاح المسلمین بہار وتوحید پبلیکیشنز، بنگلور(انڈیا).

سعید بن عزیز یوسف زئی